پوسٹمارٹم رپورٹ: ’دل کے قریب چوٹ سے موت ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سلیم شہزاد اتوار کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف سِکس سے اغوا کیا گیا تھا

پاکستانی صحافی سید سلیم شہزاد کی پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق ان کی موت دل کے قریب ضرب لگنے سے ہوئی ہے۔

سلیم شہزاد دو روز قبل اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور منگل کو ان کی لاش صوبہ پنجاب کے علاقے منڈی بہاؤالدین سے ملی۔ انہیں نامعلوم افراد نے تشدد کرکے ہلاک کیا اور ان کی لاش کو نہر میں پھینک کر فرار ہوگئے۔

منڈی بہاؤ الدین کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ پوسٹمارٹم میں معلوم ہوا ہے کہ ان کو ہلاک کرنے سے قبل تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

سلیم شہزاد کی کہانی

’جس خبر کا ردِعمل نہ آئے تو اٹھا لیا جاتا ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق ان کے جسم پر پندرہ زخموں کے نشانات تھے۔ اور ان کی موت دل کے قریب ضرب لگنے سے ہوئی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک اسلام آباد میں واقع سلیم شہزاد کے گھر گئے اور ان کے ورثاء سے تعزیت کی۔ بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس واقعے سے متعلق معلومات دینے والے کو پچیس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا۔

اس سے قبل سلیم شہزاد کی گاڑی منڈی بہاؤ الدین سے تقریباً تیس کلومیٹر دور سرائے عالمگیر شہر کے قریب سے ملی۔

سلیم شہزاد کے برادرنسبتی حمزہ امیر اور تھانہ مارگلہ کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر محمد شفیق نے اس کی تصدیق کی کہ سلیم شہزاد کو اُن کی تصاویر سے شناخت کیا گیا تھا۔

مقامی پولیس کو سلیم شہزاد کی لاش پیر کو ملی تھی جس کا پوسٹمارٹم کرنے کے بعد اُنہیں امانتاً دفنا دیا گیا تھا۔

تھانہ مارگلہ کے ایس ایچ او فیاض تنولی نے، جہاں پر سلیم شہزاد کی گمشدگی کی رپورٹ درج کی گئی تھی، بی بی سی کو بتایا کہ اُنہیں سرائے عالگیر کے علاقے سے وہاں پر موجود پولیس نے اطلاع دی تھی کہ اُن کے علاقے سے لاپتہ ہونے والے شخص کی گاڑی مل گئی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ مقامی پولیس کے مطابق اس گاڑی کے قریب سے ایک نوجوان شخص کی لاش ملی ہے۔

پولیس کی ایک ٹیم لاش کی شناخت کے لیے سرائے عالگیر گئی اور پولیس پارٹی کے ہمراہ اس مقدمے کے مدعی اور سلیم شہزاد کے بردار نسبتی حمزہ امیر بھی تھے۔

پولیس انسپکٹر فیاض تنولی سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہاں کے مقامی پولیس اور لوگوں کو یہ کیسے علم ہوا کہ جس شخص کی یہ گاڑی ہے اُس کی گمشدگی کی رپورٹ تھانہ مارگلہ میں درج ہے، تو وہ کوئی اس کا جواب نہ دے سکے۔

حمزہ امیر نے متعلقہ تھانے میں سلیم شہزاد کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرواتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دینے کے لیے نکلے تھے جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئے۔

سلیم شہزاد ایک ویب سائٹ ایشاء ٹائمز کے لیے کام کرتے تھے اور ستائیس مئی کو ایشیا ٹائمز میں ان کی ایک تحقیقی رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں انہوں نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان بحریہ اور القاعدہ میں مذاکرات کی ناکامی کی وجہ سے شدت پسندوں نے بحریہ کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

حمزہ امیر نے کہا کہ اگرچہ اُن کے پاس ایسے کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ سلیم شہزاد کے اغوا میں کون ملوث ہیں تاہم ماضی میں جب کبھی بھی ایسے واقعات ہوئے تو اُن میں خفیہ ایجنسیاں ملوث پائی گئی ہیں۔

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز وداؤٹ بارڈر کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سنہ دوہزار آٹھ میں اُنتیس، دو ہزار نو میں پینتیس اور دوہزار دس میں اکیاون صحافیوں کو اغوا کیا گیا۔

تھانہ منڈی بہاوالدین کے سب انسپکٹر محمد اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے علاقے میں واقع ایک بجلی گھر کے قریب نہر سے پیر کی دوپہر ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی تھی جس کے چہرے پر زخم کے نشانات تھے۔

اُنہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نامعلوم شخص کو سرائے عالمگیر سے آنے والی نہر میں پھینک دیا گیا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ لاش ہیڈ رسول بجلی گھر کے قریب جھاڑیوں میں پھنسی ہوئی تھی تاہم اس کی واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹمارٹم کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا۔

سب انسپکٹر محمد اسلم کا کہنا تھا کہ پوسٹمارٹم کے بعد لاش کو ایدھی ویلفئیر سینٹر کے حوالے کر دیا تھا جنہوں نے امانتاً اُسے قبرستان میں دفن کر دیا تھا۔

تھانہ مارگلہ کے سب انسپکٹر محمد شفیق کا کہنا تھا کہ تھانہ سرائے عالمگیر پولیس اُن کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی اُنہوں نے کہا کہ ابھی تک ان کی اس پولیس افسر سے ملاقات نہیں ہوئی جنہوں نے سلیم شہزاد کی گاڑی برآمد کی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں