امریکی اور پاکستانی فوج کی مشترکہ ٹیمیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے دفترِخارجہ نے شدت پسندوں کے خلاف پاکستان اور امریکہ کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے کےلیے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دینے کی تصدیق کی ہے۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دونوں ممالک پاکستان میں موجود شدت پسندوں کے بارے میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کریں گے اور پھر شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا ’میں سمجھتی ہوں کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب امریکی وزیرِخارجہ ہیلری کلنٹن پاکستان کے دورے پر آئیں تھیں تو اس وقت یہ معاہدہ ہوا تھا اور ان سے پہلے جب سینیٹر جان کیری پاکستان آئےتھے تو تب بھی اس حوالے سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔‘

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق دفترِ خارجہ کی ترجمان نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ اس معاہدے میں خـفیہ معلومات کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا تھا جس کی بنیاد پر شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

تہمینہ جنجوعہ نے معاہدے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ’دونوں ممالک شدت پسندوں کے بارے میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کریں گے جبکہ آپریشن میں امریکہ کے فوجی حصہ نہیں لیں گے۔‘

پاکستان کی خودمختاری کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئےتہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کو دہشتگردی کے مشترکہ خطرے کا سامنا ہے لیکن حکومت اپنی خودمختاری پرکوئی سمجھوتا نہیں کرے گی۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکی وزیرِخارجہ ہیلری کلنٹن کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں پاکستان کی خودمختاری کے معاملے پر انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا اور ان پر واضع کر دیا تھا کہ قومی خودمختاری کے معاملے پر کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں