سانحہ خروٹ آباد:’خودکش جیکٹس نہیں تھیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تین خواتین سمیت پانچ چیچن باشندوں کو خودکش حملہ آور قرار دے کر ہلاک کیا گیا تھا

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سترہ مئی کو سانحہ خروٹ آباد میں پانچ چیچن باشندوں کی ہلاکت کے لیے قائم عدالتی ٹریبونل کے سامنے بطور گواہ پیش ہونے والے زیادہ تر پولیس اہلکاروں نے کہا ہے کہ چیچن باشندوں کے پاس کوئی خودکش جیکٹس نہیں تھیں۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے جج محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں قائم عدالتی ٹریبونل کے سامنے سنیچر کو زیادہ تر ان پولیس اہلکاروں نے پیش ہو کر بیانات قلمبند کرائے جو سانحہ کے دن وہاں موجود تھے۔

نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق ٹریبونل کے سامنے بیان دیتے ہوئے پولیس افسر رضا خان نے عدالت کو بتایا کہ واقعہ کے روز وہ سمگلی ناکے پر موجود تھے کہ ساڑے تین بجے کے قریب نوحصار کی جانب سے ایک گاڑی آئی۔جب اس کو روکا گیا اس میں سات افراد سوار تھے اور فرنٹ سیٹ پر ایک پٹھان بیٹھا ہوا تھا۔جس نے پولیس کو بتایا کہ باقی لوگ ان کے مہمان ہیں۔

بقول ان کے کہ میں بعد میں نے گاڑی سے تمام مردوں کو اتار کر ان کی تلاشی لی لیکن کوئی متنازعہ چیز ان سے برآمد نہیں ہوئی جبکہ ان کے بیگوں سے کچھ مشتبہ چیزیں برآمد ہوئیں۔ جس پر میں نے فوری طور پر ایس ایچ او ائر پورٹ تھانہ کو اطلاع دی اور ساتھ ہی ان افراد کو تھانے لیے جانے کی کوشش کی لیکن خیزی چوک پر پہنچنے کے بعد ان لوگوں نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہوئے دو دستی بم نکالے تھے۔

’میں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو پٹھان شخص نے مجھ پر حملہ کر کے مجھے نیچے گرا دیا جس کے بعد میں نے خوف کی وجہ سے دو فائر کیے۔‘

اسی دوران خیزی چیک پوسٹ کے قریب ایک زور دار دھماکہ ہوا۔جس کے بعد پانچ افراد زمین پر گر پڑے۔اس دوران فائرنگ کا سلسلہ شروع ہواجس میں تین خواتین سمیت پانچ چیچن باشندوں کی ہلاکت ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ فائرنگ ایف سی کے چیک پوسٹ سی ہوئی اورتیس سے چالیس فائر ہونے کے بعد فائرنگ روک دی گئی۔جس کے بعد پولیس اور ایف سی کے حکام جائے وقوعہ پر پہنچے۔

ایف سی کے کرنل فیصل شہزاد اور سابق سی سی پی او کوئٹہ داؤد جونیجو کے پہنچے کے بعد ایک بار پھر فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔

اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر سردار رفیق ترین نے عدالت کو بتایا کہ جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے توایف سی والوں نے ان کو روک دیاجس پر جج نے پوچھا کہ آپ کوگواہی کے لیے کس نے بلایا ہے۔ اس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مجھے ایس ایچ او نے فون کرکے بتایا کہ آپ کو عدالت میں بلایاگیا ہے۔اس موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ کے جج ہاشم کاکڑ نے کہا کہ افسوس ہے کہ آپ اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر ہوتے ہوئے ایک ایس ایچ او کے ماتحت ہیں۔

بم ڈسپوزل افیسر یاسر عرفات نے بتایا کہ اطلاع ملنے پر جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو لاشوں کو رسیوں کی مدد سے ایک دوسرے سے علیحدہ کیاگیا اور اس موقع پر کسی قسم کی کوئی خودکش جیکٹ یا اسلحہ برآمد نہیں ہوا۔

صدرتھانے کے اے ایس آئی مٹھا خان نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے عوام کو منتشرکرنے کے لیے ہوا میں فائرنگ کی۔انہوں نے غلط بیانی کرتے ہوئےعدالت کو بتایا کہ انھوں نے بھی عوام کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی تھی۔اس دوران معزز عدالت نےمٹھا خان کو وہ ویڈیو دکھائی جس میں وہ زخمی ہونے والے چیچن باشندوں پر دوبارہ فائرنگ کر رہے تھے۔

اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرانی نے عدالت کو بتایا کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے لہذا عدالت گواہوں کے بیانات اوپن کورٹ کی بجائے اپنے چمبر میں قلمبند کرائیں۔ کیونکہ یہ معاملہ کراچی کی مہران بیس کی طرح اہم ہے جس پر ٹریبونل کے سربراہ ہاشم کاکڑ نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ہم میڈیا کی وجہ سے بہت سی چیزوں پر بات نہیں کر سکتے ہیں لہذا آئندہ اپنے چیمبر میں ہی بیانات قلمبند ہونگے۔

یاد رہے کہ سترہ مئ کو کوئٹہ کے علاقے خروٹ آباد میں پولیس اور فرنٹئررکور کے اہلکاروں تین خواتین سمیت پانچ چیچن باشندوں کو خودکش حملہ آور قرار دے کر ہلاک کیا تھا۔جس کے بعد واقعہ کی تحقیقات کے وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایک عدالتی ٹریبونل قائم کیا تھا۔

اسی بارے میں