جنوبی وزیرستان: تین ڈرون حملوں میں اٹھارہ ہلاک

ایک حملے میں پنجابی طالبان جبکہ دوسرے میں غیرملکیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں
،تصویر کا کیپشن

ایک حملے میں پنجابی طالبان جبکہ دوسرے میں غیرملکیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں تین ڈرون حملے کیے گئے جن میں کُل اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ تینوں ڈرون حملے جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل میں کیے گئے۔

جنوبی وزیرستان کی برمل تحصیل میں ڈرون کے ذریعے دو مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں پندرہ افراد ہلاک ہوئے۔

یاد رہے کہ چار روز قبل اسی طرح کے حملے میں انتہائی مطلوبہ رہنماء الیاس کشمیری ہلاک ہو گئے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر نے بتایا ہے کہ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں غیر مُلکی بھی شامل ہیں۔

وانا میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو وانا بازار سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب تحصیل برمل کے علاقے دانہ میں دو امریکی جاسوس طیاروں نے دو مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کہ پہلا حملہ تین بجے کے قریب ہوا ہے جس میں ایک اسلامی مدرسے کے قریب مٹی کے بنے ہوئے تین کچے کمروں پر دو میزائل فائر کیے گئے جس میں دس افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے پنجابی طالبان بتائے جاتے ہیں جن کے ناموں کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ دوسرا حملہ بھی دانہ کے علاقے شاہ لم میں پانچ بجے قریب ہوا ہے جس میں امریکی جاسوس طیارے سے ایک مکان کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے پانچوں غیر مُلکی ہیں جن کا تعلق ترکمانستان سے بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں کسی اھم شخص کی شمولیت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دانہ میں ہونے والے دونوں میزائل حملوں میں کسی مقامی فرد کے شامل ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ حملے کے بعد مقامی آبادی نے تمام لاشوں کو ملبے سے نکال لیا اور علاقے کے ایک قبرستان میں دفنا دیا گیا۔

حکام کے مطابق تیسرا ڈرون حملہ ہی تحصیل برمل ہی کے علاقے درے نشتر میں ہوا ہے جس میں ایک ڈبل کیبن گاڑی کو نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گاڑی پر دو میزائل فائر کیے گئے جس میں گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔ اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسند تھے لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ شدت پسندوں کا تعلق کس گروپ سے ہے۔

واضح رہے تیسرا حملہ جس علاقے میں ہوا ہے یہ علاقہ افغان سرحد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہاں قیمتی لکڑیوں کا بُہت بڑا جنگل ہے۔اور شمالی وزیرستان کا علاقہ شوال بھی درے نشتر کے قریب ہے۔

یاد رہے کہ اس علاقے میں پہلے بھی کئی بار امریکی جاسوس طیاروں کے حملے ہوچکے ہیں۔جس میں مقامی لوگوں کے علاوہ شدت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں۔