شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے، اٹھارہ ہلاک

ڈرون طیارے نے ٹھکانے پر پانچ میزائل فائر کیے
،تصویر کا کیپشن

ڈرون طیارے نے ٹھکانے پر پانچ میزائل فائر کیے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں کم از کم اٹھارہ شدت پسند ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ حملہ بدھ کی دوپہر تحصیل دتہ خیل کے علاقے شوال میں ہوا۔

میرانشاہ میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیرکو بتایا کہ میران شاہ سے قریباً چالیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب تحصیل دتہ خیل کے علاقے زوئی میں دو امریکی جاسوس طیاروں نے مبینہ طور پر شدت پسندوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔

سرکاری اہلکار مطابق امریکی ڈرون طیاروں سےایک قلعہ نُما مکان پر پانچ میزائل فائر کیے گئے جس کے نتیجے میں مکان مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مکان ایک مقامی قبائلی کی ملکیت ہے لیکن کچھ عرصہ سے شدت پسندوں کے زیر استعمال تھا۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس حملے میں اب تک پندرہ شدت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے تاہم ہلاکتوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ جس ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ ٹھکانہ مقامی شدت پسندوں کا تھا لیکن یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں پنجابی طالبان اور کچھ غیر مُلکی بھی شامل ہیں۔

جس علاقے میں ڈرون حملہ ہوا ہے یہ علاقہ افغان سرحد کے بالکل قریب ہے اور یہاں چلغوزے کا ایک بُہت بڑی جنگل ہے۔ اس علاقے میں پہلے بھی کئی بار ڈرون حملے ہو چکے ہیں جس میں مقامی، پنجابی اور غیر مُلکی شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خصوصاً وزیرستان ایجنسی میں ڈرون حملوں میں اچانک تیزی دیکھنے میں آئی ہے اورگزشتہ پانچ دن کے دوران یہ پانچواں تاہم شمالی وزیرستان میں ہونے والا پہلا حملہ ہے۔اس سے قبل ہونے والے حملوں میں سے چاروں جنوبی وزیرستان میں ہوئے تھے جن میں شدت پسند رہنما الیاس کشمیری سمیت ستائیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ شمالی و جنوبی وزیرستان میں ایک بار پھر ڈرون حملوں میں اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان میں کئی سیاسی پارٹیوں نے ڈرون حملوں کی پرزُور مخالفت شروع کی ہے اور امریکہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستانی حکام پر امریکہ دباؤ ڈال رہا ہے لیکن پاکستانی حکام تاحال کاروائی کے لیے تیار نظر نہیں آتے ہیں۔