رینجرز مقدمہ انسدادِ دہشتگردی عدالت میں

Image caption سرفراز کو رینجرز نے کراچی کے ایک پارک میں گولی ماری تھی

کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پر ڈی آئی جی غربی نے رینجرز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سرفراز کے مقدمے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

ڈی آئی جی پولیس غربی سلطان خواجہ کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم نے اتوار کو چار گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔

اس موقع پر مقتول سرفراز کے بھائی سالک شاہ اور ان کے اہل محلہ بھی موجود تھے۔

کراچی میں ہمارے نامہ نگار حسن کاظمی نے بتایا کہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی نے بتایا کہ اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایسا کوئی بھی عمل جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیلے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے تحت سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

ڈی آئی جی سلطان خواجہ نے بتایا کہ ان کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی سات دن میں چالان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کردے گی۔

یاد رہے کہ اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی سلطان خواجہ کو سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

دو شدت پسند گرفتار

کراچی میں سی آئی ڈی پولیس نے اتوار کو پیر آباد کے علاقے سے کالعدم تحریک طالبان کے دو ارکان کو پولیس مقابلے کے بعد گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایس ایس پی سی آئی ڈی اسلم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار افراد کے نام عبدالرزاق اور راشد اقبال عرف باسط ہیں۔

ان کے بقول ملزمان کے قبضے سے دو ہینڈ گرینیڈ ، بیس کلو دھماکہ خیز مواد، دو ٹی ٹی پستول، بیس ڈیٹونیٹر وائرز، دھماکے میں استعمال ہونے والی مختلف اشیاء اور دو سو گولیاں بھی برآمد ہوئیں۔

اس واقعے کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے سی آئی ڈی کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ پولیس حاجی ندیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پنجاب سے ہے جو کراچی سے بچوں کو قبائلی علاقوں میں لے جاکر خودکُش حملوں کی تربیت دلواتا ہے اور پھر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عبدالرزاق کا تعلق قاری حسین کے جانشین کمانڈر ولی محسود سے ہے۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کے جولائی دوہزار نو میں ملزم عبدالرزاق چھ بچوں کو وزیرستان لے گئے تھے جن کے نام عباد اللہ، محمد عارف، عبدالقدیر، حضرت علی، وقار اور ارشد ہیں۔

حاجی ندیم کے مطابق اگست دوہزار نو میں وزیرستان میں ایک ڈرون حملہ ہوا تھا جس میں بارہ افراد مارے گئے تھے جن میں مزکورہ چھ میں سے چار بچے بھی شامل تھے۔ ان کے بقول دو بچے وقار اور ارشد زخمی ہوئے تھے جو بعد ازاں علاج کی غرض سے کراچی لائے گئے اور اب پولیس کی حفاظتی تحویل میں ہیں۔

اسی بارے میں