’غیر ملکیوں کی موت گولیاں لگنے سے ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پوسٹ مارٹم کے دوران ہلاک ہونے والوں کے جسموں سے اکیس گولیاں برآمد کی گئیں: پولیس سرجن

خروٹ آباد تحقیقاتی ٹریبونل کے سامنے بیان دیتے ہوئے بولان میڈیکل کمپلکس کے پولیس سرجن ڈاکٹر باقر شاہ نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکیوں کی موت گولیاں لگنے سے ہوئی۔

پانچ غیر ملکیوں کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں قائم ٹریبونل کے سامنے پیر کو بھی پولیس سرجن اور ڈرائیور نے بیانات قلمبند کرائے۔

سانحہ کے ایک اہم گواہ ڈرائیور نے کہا ہے کہ انہوں نے پولیس کے دباؤ میں آ کرعدالت کے سامنے پہلے غلط بیانی سے کام لیا تھا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق پیر کو ٹریبونل کے سامنے بیان دیتے ہوئے بولان میڈیکل کمپلیکس کے پولیس سرجن ڈاکٹرسید باقر شاہ نے کہا کہ ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں کے جسموں پر گولیوں کے چھپن نشانات موجود تھے۔ پوسٹ مارٹم کے دوران ہلاک ہونے والوں کے جسموں سے اِکیس گولیاں برآمد کی گئیں، جبکہ ایک شخص کے جسم سے لوہے کا ایک ٹکڑا بھی برآمد ہوا۔

چیچن باشندوں کو کچلاک سے کوئٹہ لانے والی گاڑی کے ڈرائیور عطا محمد کا کہنا تھا کہ ’سترہ مئی کو دو بجے کے قریب ایک مقامی شخص نے کچلاک سے کوئٹہ بھوسہ منڈی تک گاڑی بک کروائی اور ہمارے درمیان تیرہ سو روپے کرایہ طے ہوا۔‘

ڈرائیور نے بتایا ’جب ہم کچلاک ریلوے پھاٹک پرپہنچے تو گاڑی میں مزید تین خواتین سمیت پانچ افراد سوار ہوئے اور کوئٹہ پہنچنے سے قبل ان افراد نے مجھے نوحصار کے راستے سے جانے پر اصرار کیا۔ جس کے بعد میں نے کرائے میں دو سو روپے کا اضافہ کیا۔‘

عطامحمد نے ٹریبونل کو بتایا کہ ’ائرپورٹ تھانہ کے اہلکاروں نے سمنگلی چیک پوسٹ پر ہماری گاڑی کو روکا اور تقریباً ایک گھنٹہ تک ان غیر ملکیوں کی تلاشی لیتے رہے۔ اس دوران غیر ملکیوں سے کوئی ممنوعہ چیز برآمد نہیں ہوئی۔‘

’میں نے بعد میں ائیرپورٹ تھانہ کے ایس ایچ او فضل اور سب انسپکٹر رضا خان سے پوچھا کہ اب ہم جاسکتے ہیں تو انہوں نے مجھے ان افراد کوتھانے لے جانے کا حکم دیا اور ساتھ ہی سب انسپکٹر رضا خان ایک اور پولیس اہلکار سمیت میری گاڑی میں سوار ہوئے۔‘

انہوں نے بیان میں مزید کہا کہ ’کچھ دیر بعد پولیس اور غیر ملکیوں کے درمیان گاڑی میں ہی تلخ کلامی شروع ہوئی جس پر رضا خان نے مجھے گاڑی روکنے کو کہا۔ جب میں نے گاڑی روکی تو رضا خان گاڑی سے اتر گئے اور دو ہوائی فائر بھی کیے۔ فائرنگ سے گھبرا کر غیر ملکی گاڑی سے اتر کر بھاگنے لگے۔ جیسے ہی یہ لوگ وہاں سے بھاگے تو پولیس نے ان پر فائرنگ شروع کردی جس کے باعث ان کی ہلاکتیں ہوئی۔‘

عطا محمد نے کہا کہ ’پہلے میں نے پولیس کے دباؤ میں آ کر عدالت کے سامنے غلط بیانی سے کام لیا تھا کیونکہ مجھے ایس ایچ او ائرپورٹ فضل اور سب انسپکٹر رضا خان نے درست بیان دینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔‘

عطاء محمد کے بقول ’چھ دن تک تھانے میں بند رہنے اور پولیس اہلکاروں کی مسلسل دھمکیوں کے باعث میں نے غلط بیانی سے کام لیاتھا حالانکہ ان غیرملکیوں کے پاس نہ کوئی خودکش جیکٹیں تھیں اور نہ کوئی دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا۔‘

دو اہم گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد بلوچستان ہائی کورٹ کے جج محمد ہاشم کاکڑ نے ٹریبونل کی کاروائی منگل تک ملتوی کردی۔