وزیرستان: ڈرون حملوں میں سات افراد ہلاک

جنوبی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے
،تصویر کا کیپشن

جنوبی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان ایجنسی میں امریکی جاسوس طیاروں کے دو مختلف مقامات پر حملوں میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ ڈرون حملہ میرانشاہ سے کوئی پندہ کلومیٹر جنوب کی جانب ایشا کے مقام پر ہوا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق امریکی جاسوس طیارے سے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق ڈرون حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک گاڑی گاؤں ٹل سے میرانشاہ کی طرف آ رہی تھی کہ ایک پہاڑی سلسلے میں موڑ کاٹتے ہوئے امریکی جاسوس طیارے کے تین میزائل حملوں میں نشانہ بنی۔

حملے میں ہلاک ہونے والے پنجابی طالبان بتائے جاتے ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملہ

اس سے پہلے بدھ کو ہی جنوبی وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔

وانا میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ بدھ کو شہر سے کوئی دس کلومیٹر دور جنوب کی جانب گاؤں کڑی کوٹ کے علاقے سانگیڑ(مدی کوٹ) میں ایک امریکی جاسوس طیارے سے ایک نان کسٹم پیڈ گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

اہلکار کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی جاسوس طیارے سے دو میزائل فائر کیے گئے اور دونوں میزائل گاڑی پر ہی لگے ہیں۔

اہلکار کے مطابق گاڑی میں آگ لگنے سے چاروں لاشیں مکمل طور پر جھلس گئی ہیں اور ابھی تک کسی بھی لاش کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک سفید رنگ کی گاڑی غوا خواہ کی جانب سے کڑی کوٹ کی طرف آرہی تھی کہ آبی گُزرگاہ کے بیچ میں ایک امریکی جاسوس طیارے نے یکے بعد دیگرے گاڑی پر دو میزائل داغے، جس سے دو زوردار دھماکے ہوئے اور گاڑی کے مقام سے دھواں اُٹھنے لگے۔

انہوں نے بتایا کہ دھواں اتنا زیادہ تھا کہ چند منٹ میں قریبی گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جس جگہ گاڑی کو نشانہ بنایا ہے وہاں شام کے وقت گاؤں کے بچے کرکٹ کھلتے ہیں۔

یاد رہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں بھی ایک عرصے سے امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔لیکن اس پہلے شمالی وزیرستان میں جنوبی وزیرستان کے نسبت امریکی جاسوس طیاروں حملے زیادہ تھے۔