کرّم: ڈرون حملوں میں چھ افراد ہلاک

جنوبی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے
،تصویر کا کیپشن

جنوبی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے کُرم ایجنسی میں حکام کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں کے دو حملوں میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ اس ایجنسی میں دو سال کے وقفے کے بعد امریکی جاسوس طیاروں کی پہلی کارروائی ہے۔

ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ پیر کو افغان سرحد کے قریب لوئر کُرم کی تحصیل علی زئی کے علاقے خڑ ڈھنڈ میں دو امریکی جاسوس طیاروں نے شدت پسندوں کے زیر استعمال ایک ہسپتال اور ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے حملے میں ایک امریکی جاسوس طیارے سے ایک گاڑی پر دو میزئل فائر کیے گئے جس میں تین شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے سے گاڑی میں دو زودار دھماکے ہوئے تھے اور بعد میں شدت پسندوں کے پاس موجود اسلحہ پھٹنے سے کئی چھوٹے دھماکے ہوئے۔

اہلکار نے مزید بتایا کہ کچھ دیر بعد اسی علاقے میں مٹی کے بنے ہوئے چند کمروں پر مُشتمل ایک ہسپتال پر بھی دو میزائل داغے گئے جس میں بھی تین افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی عام پرائیوٹ ہسپتال نہیں تھا بلکہ علاقے کے لوگوں سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مٹی کے بنے ہوئے چند کمرے تھے اور شدت پسند اسے ایک ہسپتال کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق کس گروپ ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران امریکی جاسوس طیاروں سے شمالی و جنوبی ایجنسی کے مختلف علاقوں اور وہاں پر موجود شدت پسندوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے لیکن کُرم ایجنسی میں مارچ سنہ دو ہزار نو کے بعد یہ پہلا حملہ ہے۔