فوج میں امریکہ مخالف جذبات کے نمائندے

بریگیڈئر علی خان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بریگیڈئر علی خان پاکستانی فوج کے ’بہترین‘ افسران میں شمار ہوتے تھے

کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ساتھ مبینہ تعلقات پر زیرحراست پاکستانی فوج کے بریگیڈیئر علی خان، ان کے بعض ساتھیوں اور سینئر افسران کے مطابق، گزشتہ کئی سالوں میں پاکستانی فوج میں امریکہ مخالف جذبات کے نمائندے کے طور پر سامنے آئے تھے۔

انیس سو اٹھاون میں میانوالی کے ایک گاؤں کے غریب خاندان کے صوبیدار مہر خان کے گھر پیدا ہونے والے علی خان نے انیس سو اناسی میں پاکستانی فوج میں کمیشن حاصل کیا۔

’گرفتاری انتقامی کارروائی ہے‘

وہ اپنے گولڈ میڈل اور شاندار سروس ریکارڈ کے باعث پاکستانی فوج کے ’بہترین‘ افسران میں شمار ہوتے تھے۔ اپنے ریکارڈ کے مطابق وہ تقرریوں اور ترقیوں کی دوڑ میں نمایاں حیثیت میں کامیابی کی منازل طے کرتے رہے یہاں تک کہ امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گرد حملے ہوئے اور پاکستانی فوج نے امریکہ کو افغانستان میں فوجی کارروائی کے لیے فوجی تعاون فراہم کرنا شروع کر دیا۔

بریگیڈیئر علی خان اس وقت کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں کورس میں شامل تھے جس کے بعد ان کی میجر جنرل کے عہدے پر ترقی تقریباً یقینی تھی۔ بری فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کوئٹہ پہنچے اور سٹاف کالج سے خطاب کیا۔ سوال و جواب کی نشست شروع ہوئی۔ بریگیڈئر علی خان نے مائیک سنبھالا اور تقریر نما سوال داغ دیا۔

لب لباب اس جذباتی تقریر کا یہ تھا کہ جنرل مشرف کو وہ معاہدہ عوام کے سامنے رکھنا چاہیے جس کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ فوجی تعاون کیا جا رہا ہے۔ اور یہ کہ اس تعاون کی حدود و قیود کا واضح تعین ہونا چاہیے۔

اس روز سٹاف کالج میں موجود ایک سینئر افسر کے بقول جنرل مشرف نے اجلاس ختم ہونے کے بعد بریگیڈیئر علی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس کے بعد بورڈ ہوا لیکن بریگیڈیئر علی، بریگیڈیئر ہی رہے۔ ان کے ساتھی ترقی پا کر پہلے میجر اور پھر لیفٹینٹ جنرل بن گئے۔

ان کے کورس کے ساتھیوں، سینئرز اور جونئیر افسران سب کو توقع تھی کہ پاکستانی فوج کا یہ سینئر ترین بریگیڈییئر اب ریٹائرمنٹ لے ہی لے گا۔ لیکن علی خان نے سب کو حیران کر دیا یہ کہ کر کہ وہ ریٹائرمنٹ نہیں لیں گے بلکہ فوج میں رہتے ہوئے اپنا کام کرتے رہیں گے۔

اور یہ کام کیا تھا، جلد ہی فوج کے اہم عہدوں پر رہنے والوں کو اندازہ ہو گیا۔

بریگیڈیئر علی نے باقاعدگی سے اپنے ان سینئر افسران کے ساتھ خط و کتابت شروع کر دی جو فوج میں کلیدی عہدوں پر فائز تھے۔ مضمون میں تو فرق ہوتا تھا لیکن ان خطوط تک رسائی رکھنے والے ایک سے زیادہ افسران نے بی بی سی کو بتایا کہ بریگیڈیئر علی کی ان تحریروں کا موضوع ایک ہی تھا ’خود انحصاری اور امریکی امداد سے نجات‘۔

بریگیڈیئر علی خان نے ان تحقیقی مقالات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستانی فوج کا امریکی پر بڑھتا ہوا انحصار اس ادارے کی کمزوری اور درمیانی اور نچلے سطح کے افسران میں بے چینی اور بددلی کا باعث بن رہا ہے۔

بریگیڈیئر علی کی ماتحتی میں کام کرنے والے پاکستانی فوج کے ایک سینئر افسر نے جو اس وقت ایک کلیدی عہدے پر کام کر رہے ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے جب دیکھا کہ اب کے دوست اور سابق افسر کے خطوط کا سلسلہ طول پکڑتا جا رہا ہے اور جنرل اشفاق پرویز کیانی اس سلسلے کے ختم ہونے کے خواہشمند ہیں، تو انہوں نے دبے لفظوں میں علی خان کو باور کروانے کی کوشش کی کہ وہ یہ کام نہ کریں۔

’لیکن علی نے ہماری باتوں کو زیادہ وزن نہیں دیا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو صحیح مشورہ دیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ جب ہم نے زیادہ اصرار کیا تو ان کی کہنا تھا کہ ان سے رائے مانگی جاتی ہے اس لیے وہ دیتے ہیں‘۔

اس افسر نے تاہم کہا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو معلوم تھا کہ بریگیڈیئر علی کی رائے نہ طلب کی جاتی ہے اور نہ ہی زیر غور لائی جاتی ہے۔

بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچی کہ علی خان نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کو بھی انہی موضوعات پر ایک طویل مراسلہ لکھ دیا۔ اس میں بریگیڈیئر نے پانچ اقدامات تجویز کیے جن پر عمل کر کے، ان کے بقول پاکستان کو ایک خود انحصار مملکت بنایا جا سکتا تھا اور امریکی’غلامی‘ سے نجات حاصل کی جا سکتی تھی۔

اس میں اعلیٰ حکام کی مراعات میں کمی، جس میں ارکان پارلیمنٹ، سیاسی حکمران، بیورکریسی اور فوجی افسران کو دی جانے والی مراعات بھی شامل تھیں۔ مختلف مراحل سے ہوتا ہوا یہ خط بھی فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی میز تک پہنچا۔

پھر دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی ہوئی۔ بریگیڈیئر علی کے ساتھ کام کرنے والے بعض افسران کا کہنا ہے کہ اس روز سے بریگیڈیئر علی سخت غصے کے عالم میں تھے اور انہیں اپنا یہ غصہ نکالنے کا موقع اس وقت ملا جب ان کے سابق شاگرد اور موجودہ کمانڈر لیفٹینٹ جنرل جاوید اقبال نے پانچ مئی کو اپنے زیر کمان افسروں کا اجلاس طلب کر کے اس معاملے پر مشاورت کی۔

جی ایچ کیو میں ہونے والی اس مشاورت میں ایک درجن سے زائد سینئر افسران شریک ہوئے۔ پاکستانی فوج میں نظم و ضبط کے ذمہ دار ایڈجوٹنٹ جنرل جاوید اقبال کا سوال یہ تھا کہ اس واقعے کی کن خطوط پر تفتیش کی جائے۔

علی خان کی شمولیت سے پہلے تک گفتگو انہیں خطوط پر چلتی رہی جیسا کہ ’باس‘ کی خواہش تھی۔ پھر اس سینئر موسٹ بریگیڈیئر نے گفتگو کا رخ خود احتسابی کی طرف موڑ دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب اجلاس ختم ہوا تو دو کے سوا تمام افسران بریگیڈیئر علی خان کے مؤقف کے حامی ہو گئے، وہ بھی جو ابتدا میں جنرل جاوید کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔

اگلے روز کور کمانڈرز کانفرنس تھی۔ جنرل جاوید نے یہ سارا معاملہ پاکستانی فوج کے اعلیٰ حکام کے گوش گزار کر دیا، جیسا کہ ان کے فرائض میں شامل تھا اور اسی شام بریگیڈیئر علی کو حراست میں لے لیا گیا۔

بریگیڈیئر علی کے خلاف حزب التحریر کے ساتھ روابط کےحق میں بعض واقعاتی شہادتیں جمع کر لی گئی ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں لیکن ان شہادتوں کو ثابت کرنے کے لیے گواہان ابھی تک دستیاب نہیں ہو سکے۔

بریگیڈیئر علی کے ساتھ، ان کے اوپر اور نیچے کام کرنے والے بہت سے افسران ان کے امریکہ مخالف خیالات سے متفق نہیں ہیں۔

تاہم ان میں سے بعض، جن سے بی بی سی نے علی خان کی گرفتاری کی خبر نشر ہونے سے پہلے رابطے کیے، کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کا شاید ہی کوئی افسر یہ تسلیم کرے کہ بریگیڈیئر علی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہو سکتے ہیں البتہ خود انحصاری کے بارے میں ان کے خیالات پاکستانی فوج کے اوسط سطح کے افسروں گزشتہ کچھ عرصے میں بہت تیزی سے مقبول ہو رہے تھے، خاص طور پر دو مئی کے بعد سے۔

اسی بارے میں