آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 جولائ 2011 ,‭ 04:29 GMT 09:29 PST

’ایڈمرل مائیک مولن کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

حکومت پاکستان نے امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کے صحافی سلیم شہزاد کے بارے میں بیان پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس بیان کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

امریکی فوج کے اعلیٰ ترین اہلکار ایڈمرل مائیک مولن نے کہا تھا کہ بظاہر پاکستانی حکومت کے کچھ عناصر کی اجازت سے صحافی سلیم شہزاد کو قتل کیا گیا تھا۔

ایڈمرل مائیک مولن نے یہ بیان پینٹاگون پریس ایسوسی ایشن کے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دیا تھا۔ اسی بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے ہیں کہ پاکستان کی طاقت وار خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اس قتل میں ملوث ہے۔

حکومت کے ایک ترجمان نے سرکاری خبر رساں ایجنسی کو یہ بیان دیا ہے اور پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ یعنیٰ پی آئی ڈی نے اس کو جاری کیا ہے۔ اس بیان میں ترجمان کا نام نہیں دیا گیا ہے۔

ایڈمرل مائیک مولن کے بیان پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کا بیان معاملے کی تحقیقات میں مدد فراہم نہیں کرے گا اور حکومتِ پاکستان نے پہلے ہی اس معاملے کی تحقیقات کےلیے ایک آزاد اور خودمختار کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔

آئی ایس آئی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ صحافی سلیم شہزاد کی ہلاکت انتہائی افسوسناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم کو تشویش ہے، لیکن اس واقعے کو ملک کی سکیورٹی ایجنسی کو بدنام کرنے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

ایڈمرل مولن کے مطابق ’صحافی سلیم شہزاد کے قتل کے حوالے سے ان کے پاس ایسے شواہد موجود نہیں ہیں جس سے ثابت ہو کہ کوئی خاص ایجنسی قتل میں ملوث ہے لیکن میں کسی ایسی چیز کو نہیں دیکھتا جو اس رپورٹ کے غلط ہونے پر قائل کر دے، جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس بارے میں جانتی تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ’ ہاں اس کی حکومت نے اجازت دی تھی۔‘

کلِک سلیم شہزاد قتل:’ فوج کمیشن کی حمایتی ہے‘

کلِک ’خفیہ اداروں کو شاملِ تفتیش کیا جائے‘

یاد رہے کہ صحافی سلیم شہزاد کے قتل پر اب تک کسی بھی امریکی اہلکار کا یہ سب سے واضح بیان ہے۔

سلیم شہزاد اٹھائیس مئی کو اسلام آباد سے لاپتہ ہو گئے تھے اور اس کے تین دن بعد اکتیس مئی کو ان کی لاش صوبہ پنجاب کے علاقے منڈی بہاؤالدین سے ملی تھی۔ انہیں نامعلوم افراد نے تشدد کرکے ہلاک کیا اور ان کی لاش کو نہر میں پھینک کر فرار ہوگئے تھے۔

صحافی سلیم شہزاد کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ایڈمرل مائیک مولن نے کہا کہ ’انھیں سلیم شہزاد کے لاپتہ اور قتل ہونے پر شدید تشویش تھی اور ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ پاکستان میں کسی صحافی کو نشانہ بنایا گیا ہو۔

’میرے نقطۂ نظر سے یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر پاکستانیوں سمیت ہم سب کو بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، اور یہ وہ راستہ نہیں جس پر آگے بڑھا جائے۔‘

سلیم شہزاد کے قتل میں آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ’میں نے ابھی تک کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی کہ میں اس کی تصدیق کر سکوں۔‘

سلیم شہزاد اٹھائیس مئی کو اسلام آباد سے لاپتہ ہو گئے تھے اور اس کے تین دن بعد اکتیس مئی کو ان کی لاش صوبہ پنجاب کے علاقے منڈی بہاؤالدین سے ملی تھی۔ انہیں نامعلوم افراد نے تشدد کرکے ہلاک کیا اور ان کی لاش کو نہر میں پھینک کر فرار ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ آئی ایس آئی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ صحافی سلیم شہزاد کی ہلاکت انتہائی افسوسناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم کو تشویش ہے، لیکن اس واقعے کو ملک کی سکیورٹی ایجنسی کو بدنام کرنے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

آئی ایس آئی کا یہ بیان انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اس مطالبے کے بعد آیا تھا جس میں کہا گیا تھا پاکستانی صحافی سلیم شہزاد کے اغواء اور قتل کی کسی بھی تفتیش میں پاکستان کے خفیہ اداروں کو بھی شامل کیا جائے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔