کراچی: 80 ہلاکتیں، سوگ اور گرفتاریاں

کراچی سوگ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایم کیو ایم نے سکیورٹی خدشات کے باعث احتجاجی ریلی منسوخ کر دی۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز کراچی کی سڑکیں ویران اور کاروبار بند ہے۔ گزشتہ چار روز سے جاری پرتشدد واقعات میں اب تک اسی افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

دریں اثناء ایوان صدر اسلام آباد میں کراچی کی صورتحال پر ہونے والی اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سندھ حکومت سے کراچی میں کمشنری نظام فوری طور پر بحال کرے گی۔

شہر میں ٹارگٹ کلنگ کی نگرانی کے لیے بنائے گئے پولیس کنٹرول نے بتایا ہے کہ رات بارہ بجے سے لیکر جمعہ کی دوپہر تک اٹھارہ افراد ہلاک اور سینتیس زخمی ہو چکے ہیں۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق فائرنگ کے بعد گزشتہ شب سے دستی بموں اور راکٹ سے بھی حملے کیے جارہے ہیں۔

بلدیہ ٹاؤن پولیس کے مطابق گجرات محلہ، ترک محلہ ، پٹنی محلہ علاقوں میں رات کو راکٹ داغے گئے۔ اس کے علاوہ لائیٹ ہاؤس کے قریب بھیم پورہ میں ایک گھر پر دستی بم پھینکے گئے جس میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔

اس سے پہلے صبح سویرے شہر کے تجارتی علاقے کھارادر میں مختلف واقعات میں تین افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول مزدور تھے اور مقامی مارکیٹوں میں کام کرتے تھے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے تصدیق کی ہے گزشتہ چار روز میں اسی سے پچاسی افراد ہلاک ہوئے ہیں جو تمام ہی بے گناہ تھے۔

کراچی میں امن امان کے بارے میں اجلاس کے بعد رحمان ملک نے بتایا کہ پولیس نے گزشتہ شب ٹارگیٹڈ آپریشن کیا ہے جس میں نواسی ملزمان کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کیا گیا، یہ لوگ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ قصبہ کالونی اور کٹی پہاڑی میں ڈیڑھ اور دو فٹ کی گلیاں ہیں جہاں پولیس کا جانا بہت مشکل ہے۔ پولیس اور رینجرز نے جب تیاری کی تو جن علاقوں میں کارروائی کرنی تھی وہاں کی بجلی چلی گئی۔

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا ’ کچھ علاقے ہم رینجرز اور کچھ پولیس کے حوالے کر رہے ہیں، ایف سی اہلکار طلب کرلیے گئے ہیں اگر مزید فورس کی ضرورت پڑی تو وہ بھی فراہم کی جائیگی‘۔

رحمان ملک نے تصدیق کی کہ کٹی پہاڑی پر پولیس چوکیوں پر چند لوگوں نے قبضہ کرلیا تھا ان میں سے دو واپس لے لی گئی ہے۔ ان کے مطابق پولیس جب کوئی ایکشن لینے جاتی ہے تو شرپسند بچوں اور بوڑھوں کو ڈھال بنالیتے ہیں، پولیس کی کوشش ہے کہ کسی کو نقصان نہ پہنچے۔

ادھر ایوان صدر اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں سندھ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ کراچی میں کمشنری نظام فوری طور پر بحال کرے گی۔

کراچی کی صورتحال پر ایوان صدر اسلام آباد میں صدر زرداری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعطم سید یوسف رضا گیلانی، وزیراعلیٰ سندھ، وزیر داخلہ رحمان ملک سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

صدر زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں طے پایا ہے کہ صوبہ سندھ میں تمام سیاسی قوتوں سے مفاہمت کی پالیسی کو جاری رکھا جائے گا۔

اجلاس میں سندھ حکومت کو کراچی میں کمشنری نظام فوری طور پر بحال کرنے کا کہا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ سندھ حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ صوبے اور کراچی میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے ابھرتے چینلجز سے نمٹنے کے لیے مقامی انتظامیہ کو زیادہ ذمہ داری بنانے کے لیے مقامی حکومت کے نظام میں مناسب قانونی ترامیم کی جائیں۔

اجلاس کو وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ رحمان ملک نے کراچی کی صورتحال سے آگاہ کیا۔

سوگ

کراچی میں جاری پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کے خلاف جمعے کے روز سوگ منایا گیا۔ متحدہ قومی موومنٹ نے سوگ کا اعلان کیا تھا، جبکہ مسافروں بسوں پر فائرنگ کے واقعات کے بعد ٹرانسپورٹ اتحاد نے آج گاڑیاں بند رکھنے کو کہا تھا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق شہر کے تمام چھوٹے بڑے تجارتی اور کاروباری مراکز سے لیکر سگریٹ، پان اور بیڑی کے کیبن تک بند ہیں۔ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث فیکٹریوں اور سرکاری دفاتر میں ملازم غیر حاضر رہے۔

شہر کی صورتحال کے پیش نظر جامعہ کراچی اور وفاقی اردو یونیورسٹی نے اپنے پرچے ملتوی کردیئے تھے۔

دریں اثنا متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے پریس کلب سے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک اعلانیہ مارچ ملتوی کردیا ہے۔ ایم کیو ایم کے ترجمان قمر منصور نے بتایا کہ پر امن احتجاج کا جب اعلان کیا گیا تھا تو اس وقت ابھی مسافر بسوں پر فائرنگ کے واقعات نہیں ہوئے تھے۔

ان کا کہنا تھا ’ لوگوں کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد انہیں ٹارگٹ بناکر قتل کیا گیا۔‘ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں وہ پر امن احتجاج بھی نہیں کرپا رہے۔

قمر منصور نے الزام عائد کیا کہ بلدیہ ٹاؤن میں آْبادیوں پر راکٹ اور دستی بم پھینکے جا رہے ہیں اور وہ صرف لوگوں کو یہ ہی مشورہ دے رہے ہیں کہ اپنے گھروں میں رہیں کیونکہ وہ ایک پر امن جمہوری جماعت ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تمام چھوٹے بڑے تجارتی اور کاروباری مراکز سے لیکر سگریٹ، پان اور بیڑی کے کیبن تک بند ہیں۔

دوسری جانب امریکی سفیر کیمرون منٹر نے کراچی میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مزید تشدد سے باز رہیں اور اپنے اختلافات کو پر امن طریقے سے حل کرنے کے لیے کام کریں۔

امریکی سفیر نے مزید کہا ہے کہ گزشتہ تین دنوں کے دوران خواتین اور بچوں سمیت ساٹھ سے زائد جانوں کا ضیاع ایک المیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بے گناہ متاثرین کے اہل خانہ اور احباب سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ رات وزیر اعلیٰ ہاؤس میں بھی امن امان کے بارے میں اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ تخریب کاروں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کیے۔

اسی بارے میں