ملک اسحاق چودہ برس بعد رہا

ملک اسحاق پر لاہور میں سری لنکن کرکٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کا بھی الزام ہے
،تصویر کا کیپشن

ملک اسحاق پر لاہور میں سری لنکن کرکٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کا بھی الزام ہے

پاکستان میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے رہنما ملک محمد اسحاق کو چودہ برس کی قید کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

ملک اسحاق کو سال انیس سو ستانوے میں پنجاب کے شہر فیصل آباد سے گرفتار کیاگیاتھا اور وہ تب سے جیل میں تھے۔

اب ان کی رہائی سپریم کورٹ کی طرف سے ان کی ضمانت کی منظوری کے بعد عمل میں آئی ہے۔

جمعرات کے روز عدالت کے حکم پر پانچ پانچ لاکھ روپے ضمانتی مچلکے جمع ہونے پر ملک اسحاق کو لاہور کی سینٹرل جیل کوٹ لکھپت سے رہا کیا گیا۔

لاہور سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عباد الحق کے مھابق سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کے باہر موجود تنظیم کے کارکنوں نے ملک اسحاق کا استقبال کیا ۔ کارکنوں نے ملک اسحاق کے حق میں نعرے لگائے اور ان پر گل پاشی کی۔

کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے ملک اسحاق پر لاہور میں سری لنکن کرکٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے اور سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے گیارہ جولائی کو ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

کالعدم تنظیم کے رہنما کے وکیل قاضی مصباح الحسن کے مطابق ملک اسحاق پر چوالیس مقدمات قائم کیے گئے جس میں دو مقدمہ میں ان کو ان کے اقبالی بیان پر سزا سنائی گئی جبکہ پینتیس مقدمات میں وہ بری ہوچکے ہیں اور ایک مقدمہ میں ان کو ڈسچارج کردیا گیاہے۔

وکیل کے مطابق ملک اسحاق کے خلاف ابھی چھ مقدمے زیر سماعت ہیں اور ان مقدمات میں ان کی ضمانت ہوچکی ہے اور سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کی منصوبہ بندی کے الزام میں مقدمہ کی ضمانت ہونے پر ان کی رہائی عمل میں آئی ہے۔