آخری وقت اشاعت:  جمعـء 15 جولائ 2011 ,‭ 16:47 GMT 21:47 PST

’اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے‘

ملک محمد اسحاق پر الزام ہے کہ انہوں نے تین مارچ دو ہزار نو کو قذافی سٹیڈیم کے قریب سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملہ کی منصوبہ بندی کی تھی

دہشت گردی اور سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کی منصوبہ بندی سمیت دیگر الزامات میں چودہ برس تک قید کاٹنے والے ملک محمد اسحاق ان چار افراد میں سے ایک ہیں جنہوں نے سولہ برس قبل کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کی داغ بیل ڈالی تھی۔

سال انیس سو پچانوے میں جب کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی بنائی گئی تو اس کی بنیاد رکھنے والے ملک اسحاق اپنے خلاف مقدمات کی وجہ سے مفرور تھے۔

جنوبی پنجاب کے علاقے رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے ملک اسحاق چھ ستمبر انیس سو پچاسی میں وجود میں آنے والی تنظیم انجمن سپاہ صحابہ کے بانی حق نواز جھنگوی کے ابتدائی دنوں کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

انیس سو اکانوے میں جب مولانا ضیاء الرحمان فاروقی نے انجمن سپاہ صحابہ کا نام تبدیل کر کے اس کو سپاہ صحابہ پاکستان کے نام سے متعارف کروایا تو کچھ عرصے کے بعد ملک اسحاق اس تنظیم کی طرف سے اپنے آبائی ضلع کے سربراہ کے طور پر سامنے آئے اور تنظیم کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔

ملک اسحاق اپنے خلاف مقدمہ کے باعث سال انیس تیرانوے میں روپوش ہوگئے اور بعدازں ان کو اشتہاری قرار دے دیاگیا۔

مفروری کے دوران ہی ملک اسحاق نے اپنے دیگر تین ساتھیوں ریاض بسرا، اکرم لاہور اور سید غلام رسول شاہ کے ساتھ مل کر لشکر جھنگوی بنائی اور بظاہر سپاہ صحابہ پاکستان سے الگ ہوگئے۔

ریاض بسرا لشکر جھنگوی کے نام سے بننے والی نئی تنظیم کے سالار جبکہ ملک محمد اسحاق اس کے بانی امیر بنے۔

سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے بارہ جنوری سنہ دو ہزار دو کو سپاہ صحابہ پاکستان اور لشکر جھنگوی پر پابندی لگا دی اور اس وقت سے یہ تنظیمیں کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل ہیں۔

ملک اسحاق کے خلاف ان کے وکیل قاضی مصباح الحسن کے مطابق چوالیس مقدمات درج تھے اور ان میں پینتیس مقدمات میں سے وہ بری ہوئے جبکہ دو مقدمات میں انہیں ان کے اقبالی بیان پر سزا ہوئی۔

لشکر جھنگوی کے قیام کے دو برس بعد پولیس نے ملک محمد اسحاق کو پنجاب کے شہر فیصل آباد سے تیرہ ستمبر انیس سو ستانوے کو گرفتار کرلیا اور اس طرح اس وقت سے ملک اسحاق جیل میں تھے۔

محمد اسحاق کے خلاف لگ بھگ بیس برسوں کے دوران پینتالیس مقدمے درج ہوئے لیکن چھتیس مقدمات میں وہ اپنے خلاف گواہوں کی عدم دستیابی کے باعث بری ہوگئے۔

ان پینتالیس میں سے صرف دس مقدمات ایسے تھے جن میں ان کو براہ راست نامزد کیا گیا۔

ملک اسحاق کو ان کے اقبالی بیان پر ملتان میں درج ہونے والے مقدمے میں ڈیرھ برس جبکہ بہاولپور میں درج مقدمہ پر انہیں ساڑھے سات برس کی قید ہوئی۔

ملک اسحاق کے خلاف ان کے وکیل قاضی مصباح الحسن کے مطابق ملک اسحاق کے خلاف ایک مقدمہ ڈسچارج ہوگیا جبکہ ابھی چھ مقدمات کا انہیں سامنا ہے اور وہ ان میں ضمانت پر ہیں۔

ان کی رہائی میں رکاوٹ وہ آخری مقدمہ تھا جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے تین مارچ دو ہزار نو کو قذافی سٹیڈیم کے قریب سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملہ کی منصوبہ بندی کی تھی۔

گیارہ جولائی کو سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ملک اسحاق کی ناکافی شواہد کی بناء پر ضمانت منظوری کرتے ہوئے انہیں پانچ، پانچ لاکھ کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے حکم دیا اور جمعرات کی شام ان کی رہائی عمل میں آئی۔

کالعدم تنظیم کے رہنما کے قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ فی الحال ملک اسحاق ذرائع ابلاغ سے بات نہیں کریں گے تاہم وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں اور صحابہ ناموس کے تحفظ کی طرح ملک میں امن اور وطن کی مٹی کے حفاظت بھی کریں گے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔