’ایم کیو ایم سیاسی تنہائی کا شکار‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption الطاف حسین کے خلاف ذوالفقار مرزا کے بیان کے بعد کراچی میں حالات کشیدہ ہیں

پاکستان میں حکمران پیپلز پارٹی اور کراچی کی ایک بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ میں سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اگر فوری طور پر فریقین کے سنجیدہ سیاسی رہنماؤں نے مداخلت کر کے حالت بہتر بنانے کی کوشش نہ کی تو حالات بہت زیادہ خراب ہوسکتے ہیں۔

سندھ کے سینیئر صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف دیےگئے بیان کے بعد بڑھنے والی کشیدگی خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور لسانی فسادات کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

کراچی یونیورسٹی میں پاکستان سٹڈیز سینٹر کے پروفیسر اور تجزیہ کار ڈاکٹر جعفر احمد کہتے ہیں کہ ذوالفقار مرزا کا یہ بیان کسی حکمت عملی کے تحت نہیں بلکہ ان کی ذاتی حیثیت میں دیا گیا ہے۔ ‘میں سمجھتا ہوں کہ جس مزاج کے وہ آدمی ہیں یہ ان کا ذاتی بیان ہے کیونکہ پیپلز پارٹی اتنی پسماندہ سوچ کی جماعت نہیں کہ ایسا قدم اپنی پالیسی کے تحت اٹھائے’۔

تاہم بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ذوالفقار مرزا کا بیان پیپلز پارٹی کی ‘لگائی بجھائی’ والی پالیسی کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ سیاسی امور کے تجزیہ کار سہیل سانگی کہتے ہیں کہ ایسے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ذوالفقار مرزا کی ایم کیو ایم سے بنتی نہیں ہے اور انہوں نے ہوسکتا ہے ‘پوائنٹ سکورنگ’ کے چکر میں یہ بیان دیا ہو۔

انہوں نے کہا کہ اہم نکتہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے کمشنری نظام کی بحالی، کراچی اور حیدرآباد کی سابقہ انتظامی حیثیت بحال کرنے کے حکومت اقدامات کے خلاف احتجاج کی اپیل نہیں کی بلکہ الطاف حسین کے خلاف بیان پر احتجاج کر رہی ہے۔ سہیل سانگی کے مطابق ان اقدامات سے پیپلز پارٹی کو سندھ میں بہت بڑا فائدہ پہنچا ہے اور ان کی مخالف قوم پرست جماعتیں اور عام آدمی اس معاملے پر ان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔

اکثر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں ایم کیو ایم سیاسی طور پر تنہائی کا شکار ہے اور وہ اپنی تنہائی ختم کرنے کے لیے ایسے اقدامات کرے گی جس سے ایک طرف وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے قریب ہوسکے اور انہیں ‘کمیونٹی’ کی بنیاد پر ہمدردی بھی حاصل ہوسکے۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں ذرائع ابلاغ بالخصوص ٹی وی چینلز اس معاملے میں بہت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد کہتے ہیں کہ میڈیا بار بار ذوالفقار مرزا کا بیان نشر کرکے جذبات بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے بقول ایک طرف میڈیا میں ‘پروفیشنلزم’ کی کوتاہی ہے تو دوسری جانب ٹی وی اینکر پرسنز ‘پولیٹیکل ایکٹر’ کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اس سے میڈیا کا کردار ‘جلتی پر تیل’ کا کام کر رہا ہے۔

روزنامہ ڈان سے وابستہ سہیل سانگی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں بڑھنے والی حالیہ کشیدگی میں میڈیا کا کردار متعصب اور فریق سا لگتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ خبر دینے کی حد تک یہ میڈیا کی ذمہ داری بنتی ہے۔

اسی بارے میں