اسلام آباد: کارکنوں کا تھانے پر دھاوا، گرفتار ایم این اے کو چھڑا لے گئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ نے بھی انجم عقیل خان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا

پاکستان کی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان کو گرفتاری کے فوری بعد ان کے حامی انہیں چھڑوا کر لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔

اُنہیں نیشنل پولیس فاونڈیشن کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر زمین کی خریداری کے سلسلے میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی بدعنوانی کے الزام میں جمعہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔

تاہم جب انہیں تھانے لے جایا جا رہا تھا تو اسی دوران ان کے حامیوں نے دھاوا بول دیا اور انجم عقیل کو پولیس کی تحویل سے چھڑا کر لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس دوران انہیں چھڑانے کے لیے آنے والے گروہ کا پولیس کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ تاہم فائرنگ کے نتیجے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے فرائض میں غفلت برتنے پر متعلقہ تھانے شالیمار کے ایس ایچ او کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ علاقے کے ایس پی کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا ہے۔

وزیر داخلہ نے چیف کمشنر اسلام آباد کو اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کارِ سرکار میں مداخلت کرنے کے الزام میں ان افراد کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی ہے جو انجم عقیل کو پولیس کی حراست سے چھڑوانے میں کامیاب ہوئے۔

مسلم لیگ نون کے سینیئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انجم عقیل کے عزیز و اقارب سے رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ انجم عقیل خود کو حکام کے حوالے کر دیں۔

خواجہ سعد رفیق نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت پکڑے گئے افراد کی پیروی نہیں کرے گی اور اگر انجم عقیل سمجھتے تھے کہ ان کے خلاف کوئی زیادتی ہوئی ہے تو وہ قانونی طریقے سے اس کے خلاف اپیل کر سکتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ’پارٹی کے اجلاس میں انجم عقیل کے خلاف انضباطی کارروائی کی جا سکتی ہے‘

اس سے قبل، اسلام آباد پولیس کے سربراہ بن یامین خان نے رکن قومی اسمبلی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا تھا کہ انجم عقیل خان کے خلاف مختلف افراد نے درخواستیں دی تھیں کہ اُنہوں نے پلاٹ کی پوری رقم لینے کے باوجود نیشنل پولیس فاونڈیشن ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ نہیں دلوایا۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ملزم سے تفتیش کے سلسلے میں سنیچر کے روز اُسے عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں پر اُس کے جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت سے استدعا کی جائے گی۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے بھی انجم عقیل خان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا اور وزیرِداخلہ رحمان ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ اس معاملے کو رفع دفع کرنے کے لیے مسلم لیگ نون کے ارکان اسمبلی نے بھی اُن سے رابطہ کیا تھا۔

انجم عقیل خان مسلم لیگ نواز کے وہ پہلے رکنِ اسمبلی نہیں جن کے خلاف پولیس نے کارروائی کی ہے۔

اس سے قبل مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والی پنجاب اسمبلی کی رکن شمائلہ رانا کے خلاف کسی دوسرے شخص کا کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد پارٹی قیادت نے اُن کی اسمبلی کی رکنیت منسوح کر دی تھی۔

اسی بارے میں