’کراچی میں اسرائیلی ساختہ اسلحہ برآمد‘

Image caption قانون ہاتھ میں لینے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا: رحمان ملک

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ کراچی میں جاری بدامنی کے پیچھے بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔

اتوار کو اسلام آباد ائرپورٹ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں شدت پسند اسرائیل کا تیارکردہ اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، رحمان ملک نے کہا کہ’اب تک دو سو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان سے اسرائیلی ساختہ اسلحہ بشمول AK-45 رائفلیں بھی ملی ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کراچی کی بدامنی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔‘

وزیر داخلہ نے کہا کہ اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ یہ اسلحہ کہاں سے آ رہا ہے اور شرپسندوں کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان کے بقول گرفتار شدہ افراد تک میڈیا کو رسائی دی جائے گی تاکہ وہ ان سے سوال کر سکے کہ وہ لوگ معصوم افراد کی جانوں سے کیوں کھیل رہے ہیں۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں تنبیہ کی ’قانون ہاتھ میں لینے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔‘

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہیں تاہم ہر قتل ٹارگٹ کلنگ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ چھیاسٹھ فیصد افراد ذاتی دشمنی کی بناء پر قتل کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے میڈیا سے کہا کہ وہ کسی بھی قتل کے واقعہ کی رپورٹنگ کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیں۔

ایم کیو ایم کی حکومت سے ناراضگی پر انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پپلزپارٹی کے درمیان حائل رکاوٹیں بہت جلد دور کرلی جائیں گی۔

انہوں نے کہا ’ہماری جانب سے کوئی معاملہ نہیں، ہمارے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں۔‘

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ مسلم لیگ قاف کے سربراہ چودھری شجاعت حسین ایم کیو ایم کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کے بقول صدر آصف علی زرداری نے بھی ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سے فون پر بات کی ہے اور عوام جلد ہی اچھی خبر سنیں گے۔

انہوں نے کہا ’پپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کا اتحاد ملک کے مفاد کے لیے انتہائی اہم ہے۔‘

پاکستان مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی انجم عقیل کی گرفتاری پر انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں پر ازخود نوٹس لے لیا ہے۔

پاکستانی میڈیا میں خبریں آئی ہیں کہ انجم عقیل چھ ارب روپے مالیت کی زمین کے سکینڈل میں ملوث ہیں جنہیں نو سابق آئی جی پولیس اور نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کے ایک سابق انچارج کی حمایت حاصل تھی۔

رحمان ملک نے کہا کہ انجم عقیل پولیس کو ایک دھوکہ دہی کے مقدمہ میں مطلوب تھے۔ ’اگر آپ کے خلاف ایف آئی آر درج ہے تو پولیس کی حراست سے فرار ہونا ایک جرم ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں رحمان ملک نے کہا کہ انجم عقیل کے حامیوں نے غیرقانونی اسلحہ کا استعمال کیا جس پر پولیس نے انہیں گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کیے۔

کراچی میں پی آئی اے کی یونین کے سربراہ عامر شاہ کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں اور اس سلسلے میں سراغ بھی ملا ہے اور جلد ہی قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

اسی بارے میں