’حادثے کی وجہ جاننا ہمارا حق ہے‘

ائیر بلیو حادثہ
Image caption ہلاک ہونے مسافروں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجہ جاننا ان کا حق ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں دامن کوہ کے مقام پر ایک نجی ائیر لائن کے مسافر طیارے کو حادثے کا شکار ہوئے ایک سال مکمل ہو گیا۔ ایک طرف حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی تو دوسری جانب دامنِ کوہ کے مقام پر اسی حوالے سے ایک یادگار کی تعمیر کا کام جاری ہے۔

جمعرات کو نجی ائیر لائن ائیر بلیو کے مسافر طیارے کے حادثے کو ایک سال پورا ہونے پر حکومت پاکستان نے ایک مختصر بیان جاری کر کے اس معاملے کو یہ کہہ کرمزید لٹکا دیا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ اس وقت جاری کی جائے گی جب طیارے بنانے والی کمپنیوں کا موقف سامنے آئے گا۔

مارگلہ یادگار کی تصاویر

ایک برس پہلے اٹھایس جولائی کو ائیر بلیو کا مسافر طیارہ اسلام آباد کے قریب مارگلہ کی پہاڑیوں میں حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔ اس حادثے میں عملے کے چھ ارکان سمیت ایک سو باون افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سول ایویشن اتھارٹی نے حادثے کی تحقیقات کر کے رپورٹ چند ماہ قبل حکومت کو پیش کر دی تھی۔ اتھارٹی کے ترجمان پرویز جارج نے بی بی سی کو بتایا کہ اب یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ اسے منظر عام پر لاتی ہے یا نہیں۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ ان کا حق ہے کہ انہیں تحقیقاتی رپورٹ فراہم کی جائے تاکہ حادثے کی وجہ معلوم ہوسکے۔ فلائیٹ ED202 میں ہلاک ہونے والے تقریباً سو خاندانوں پر مشتمل ائیر بلیو کریش افیکٹیز گروپ کے سربراہ کرنل شمیم اس رپورٹ کے حصول کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’گزشتہ برس تقریباً تئیس خاندانوں نے مل کر چیف جسٹس آف پاکستان افتحار محمد چوہدری کو اس حادثے کا از حود نوٹس لینے کی درخواست جمع کرائی جس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں لیکن ایسا نہیں ہوا‘۔

کرنل شمیم نے بتایا کہ انہوں نے پشاور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ سے بھی رابطہ کیا جس پر سندھ ہائی کورٹ نے پچیس اکتوبر سنہ دو ہزار دس کو حکم دیا کہ دو مہینے کے اندر تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے لیکن تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ماضی کی طرح اس فضائی حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ بھی منظر عام پر نہیں لا رہی۔ وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اگر تحقیقات میں ائیر بلیو کے پائلٹ کی کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو اس سے لواحقین کو ملنے والے پچاس لاکھ معاوضے کی رقم کئی گنازیادہ ہو جائے گی جو ائیربلیو کو بھرنا پڑے گی۔‘

کرنل شمیم نے الزام عائد کیا کہ اس حادثے کی تحقیقات کے سلسلے میں عدلیہ بھی دباؤ کا شکار نظر آتی ہے۔ ’ائیربلیو کے چیف آپریٹنگ آفسر شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ نواز کے رکن پارلیمان ہیں اور حکومت اپنے ساتھی کے خلاف کاروائی کیوں کرے گی۔

دوسری جانب حکومت پاکستان نے اس حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانے کے معاملے میں تاحال چپ سادھ رکھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دامن کوہ کے مقام پر حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے نام پر درخت لگائے گئے ہیں۔

انہی افراد کی یاد میں فضائی کمپنی ائیر بلیو لاکھوں روپے خرچ کر کے دامن کوہ کے قریب ایک یاد گار کی تعمیر کر رہی ہے۔ یادگار کی تعمیر میں کئی باتوں کو اہمیت دی گئی ہے۔

آرکیٹیکٹ ندیم الحسن نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے مسافروں کے لواحقین کے جذبات کو کافی حساس طریقے سے تعمیراتی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اس یارگار کی تعمیر اس طرح سے کی گئی ہے کہ تفریحی مقام دامن کوہ کے ماحول پر اس کا برا اثر نہ پڑے۔ ہلاک ہونے والے ہر ایک شخص کے نام پر درخت لگائے گئے ہیں‘۔

حادثے کا شکار ہونے والے ائیر بلیو کے مسافر طیارے کے ایک پائلٹ سیعد منتجبودین احمد کی دوست بشریٰ علی کراچی سے یادگار کو دیکھنے آئیں۔ نم انکھوں کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ’اب ہمارے پاس یا تو ہمارے دوست کی یادیں یا پھر یہ یادگار‘۔

بشریٰ علی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں اس حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ فراہم کی جائے شاہد اس سے انہیں صبر مل سکے۔

اسی بارے میں