’ہم جواب نہیں دیتے‘

لاہور کے نواحی علاقے رائے ونڈ میں قائم تبلیغی جماعت نے پاکستان کے وزیر داخلہ کے بیان پر کسی بھی قسم کا رد عمل دینے سے معذرت کر لی ہے۔ رحمان ملک نے لندن میں ایک سمینار میں کہا تھا کہ تبلیغی جماعت کا رائے ونڈ میں قائم مرکز انتہا پسندی کی پرورش گاہ ہے۔

لاہور میں بی بی سی کی نامہ نگار مناء رانا نے جب تبلیغی جماعت کے مرکز میں فون کر کے رحمان ملک کے اس بیان پر ان کے تاثرات جاننا چاہے تو وہاں موجود شخص عبدالقیوم نے جو خود کو خادم کہہ رہے تھے کہا کہ تبلیغی جماعت والوں کا یہ مزاج ہی نہیں ہے کہ وہ کسی کے بیان کی تردید یا تصدیق کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جماعت اپنا تبلیغ کا کام جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ میڈیا پر بیان بازی نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ لوگ بہت سے بیان دیتے رہتے ہیں لیکن تبلیغی جماعت والے ان بیانات پر کوئی بھی رد عمل نہیں دیتے کیونکہ یہ یہاں کے مزاج کے خلاف ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے لندن میں ایک سکیورٹی تھنک ٹینک ’انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹیڈیز‘ میں جنوبی ایشیا میں انتہا پسندی کے انسداد پر ہونے والے ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ رائے ونڈ کا تبلیغی مرکز انتہا پسندوں کی پرورش گاہ ہے اور ان کی برین واشنگ میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔

رحمان ملک کے مطابق پاکستان میں جتنے بھی انتہا پسند گرفتار کیے جاتے ہیں ان میں تین باتیں مشترک ہوتیں ہیں۔ وہ رائیونڈ میں قائم تبلیغی مرکز جاتے ہیں، وہ ان خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ میں حصہ لیا تھا اور وہ پاکستان میں ہر جگہ پھیلے ہوئے پچیس ہزار سے زائد مدرسوں میں پڑھے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مدرسے سوویت یونین کے خلاف امریکہ اور پاکستان کی مشترکہ جنگ کے بعد تیزی سے قائم ہوئے۔

اسی بارے میں