سندھ بھر میں بلدیاتی نظام بحال

Image caption عوامی نیشنل پارٹی نے کراچی اور حیدرآباد میں کمشنری نظام ختم کر کے مقامی حکومتوں کا نظام بحال کرنے کی شدید مذمت کی ہے

اطلاعات کے مطابق گورنر سندھ عشرت العباد نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس پر دستخط کر کے صوبہ بھر میں 2001 کا بلدیاتی نظام بحال کردیا ہے۔

سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق گورنر سندھ نے اس آرڈیننس پر اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو دستخط کیے۔

واضح رہے کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کو گورنر سندھ نے دو آرڈیننسز پر دستخط کر کر کے کراچی اور حیدر آباد میں سنہ 2001 کا بلدیاتی نظام بحال کردیا تھا۔

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے اتحاد کو چھوڑنے کے اعلان کے بعد نو جولائی کو سندھ میں کمشنریٹ اور انیس سو اناسی کا بلدیاتی نظام دوبارہ نافذ کردیا گیا تھا جس کے بعد کراچی سمیت پرانے ڈویژن بحال ہو گئے تھے۔

دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی نے کراچی اور حیدرآباد میں کمشنری نظام ختم کر کے مقامی حکومتوں کا نظام بحال کرنے کی شدید مذمت کی۔

اے این پی نے احتجاجاً اعلان کیا ہے کہ اس کے سندھ میں وزیرِ صحت بھی اب سے سرکاری کام نہیں کریں گے۔

گزشتہ روز جاری ہونے والے ترمیمی آرڈیننس کے بعد کراچی کے مردان ہاؤس میں عوامی نیشنل پارٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں کمشنری نظام کو صرف کراچی اور حیدرآباد میں ختم کرنے کی شدید مذمت کی گئی ۔

عوام نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید نے کہا ’سندھ اسمبلی کی جانب سے منظور شدہ کمشنری نظام کے بِل کو سیاسی مصلحتوں کے بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے اور غیر جمہوری طریقے سے آمر کا دیا کالا قانون صرف سندھ کے دو شہروں میں دوبارہ مسلط کیا گیا‘۔

اس سے قبل حیدر آباد سے ہمارے نامہ نگار علی حسن نے بتایا کہ صرف کراچی اور حیدر آباد سے کمشنری نظام ختم کر کے بلدیاتی نظام کی بحالی کے خلاف قوم پرست جماعتوں نے پیر کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں