آخری وقت اشاعت:  جمعـء 12 اگست 2011 ,‭ 10:29 GMT 15:29 PST

سرفراز شاہ کیس: رینجرز کو موت اور عمر قید کی سزائیں

تمام ملزمان نے الزام تسلیم کرنے سے انکار کیا

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے رینجرز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے نوجوان سرفراز شاھ کے قتل میں ملوث ایک ملزم کو سزائے موت جبکہ دیگر چھ ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سرفراز شاہ کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے رینجرز کے اہلکار شاہد ظفر کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ اس کے علاوہ ظفر شاہ پر دو لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

کلِک رینجرز اہلکاروں پر فردِ جرم عائد

کلِک ’لوڈ شیڈنگ سے تنگ آ کر پارک گیا تھا‘

عدالت نے سرفراز شاہ کیس کے دیگر چھ ملزمان کو عمر قید اور دو دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ جن کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے ان میں سب انسپکٹر باہو رحمان، ڈرائیور منٹھار علی، سپاہی لیاقت علی، محمد طارق اور محمد افضل اور پارک کے سکیورٹی گارڈ افسر خان شامل ہیں۔

واضح رہے کہ انتیس جون کو ان ملزان پر فردِ جرم عائد کیا گیا تھا۔ فردِ جرم میں کہا گیا تھا کہ گیارہ جون دو ہزار گیارہ کو مقتول سرفراز شاھ کو شاہد ظفر نے فائر کرکے قتل کیا جو دہشت گردی کا عمل تھا۔ اس سے عوام میں خوف کا تاثر پیدا ہوا ہے۔

سپریم کورٹ کے احکامات پر یہ سب کچھ ہوا ہے ورنہ ہم دربدر رہتے اور بھائی کا خون رائیگان چلا جاتا ہے جس طرح دیگر شہریوں کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ پولیس نے ملزمان کو بچانے کی پوری کوشش کی مگر عدالتوں نے انصاف دیا

سالک شاہ

تاہم تمام ملزمان نے الزام تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔

ملزم شاہد ظفر کے وکیل شوکت حیات نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملزمان دہشت گرد نہیں اور ان سے جرم سرزد نہیں ہوا۔

آٹھ جون دو ہزار گیارہ کو بینظیر بھٹو پارک میں رینجرز اہلکار کی فائرنگ میں میٹرک کا طالب علم سرفراز شاہ ہلاک ہوگیا تھا۔ ٹی وی چینلوں پر واقعے کی فوٹج نشر ہونے کے بعد چھ اہلکاروں سمیت سات ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج بشیر احمد کھوسو کی عدالت نے جمعہ کی دوپہر ملزمان کو بتایا کہ ان پرالزام ثابت ہوا ہے، اس دوران ملزم شاہد ظفر جسے موت کی سزا سنائی گئی قرآنی آیات کا ورد کرتا رہا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران تئیس گواہوں نے بیانات ریکارڈ کرائے جن میں بیس استغاثہ کی جانب سے پیش ہوئے۔

پبلک پراسکیوٹر محمد خان برڑو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج انصاف کا بولا بالا ہوا ہے اور یہ ثابت ہوا ہے کہ عدالتیں لوگوں کو انصاف فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے رینجرز کا دفاع کیا۔ ’رینجرز کا یہ اقدام بطور ادارہ نہیں تھا یہ ان اہلکاروں کا ذاتی فیل تھا۔‘

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بھی اس مقدمے کا ازخود نوٹس لیا جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کا شدید رد عمل سامنے آیا ۔

سرفراز شاہ کے بھائی سالک شاہ نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں دلی طور پر سکون ملا ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ سزا برقرار رہیگی اور ملزمان کو رہائی نہیں ملے گی۔

’سپریم کورٹ کے احکامات پر یہ سب کچھ ہوا ہے ورنہ ہم دربدر رہتے اور بھائی کا خون رائیگان چلا جاتا ہے جس طرح دیگر شہریوں کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ پولیس نے ملزمان کو بچانے کی پوری کوشش کی مگر عدالتوں نے انصاف دیا۔‘

ملزمان کے وکیل نعمت اللہ رندھاوا نے صحافیوں کو بتایا کہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اور وہ پر امید ہیں کہ ملزمان اس میں سے بری ہوجائیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے زمرے میں نہیں آتا اور عدالت نے جو سزا سنائی ہے اس سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ جج سپریم کورٹ کے احکامات سے متاثر ہوئے ہیں بصورت دیگر اس قسم کا فیصلہ کبھی نہیں آسکتا تھا۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔