یومِ آزادی چودہ یا پندرہ اگست؟

جناح اور نہرو
Image caption اگر پاکستان اور بھارت چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی شب رات بارہ بجے وجود میں آئے تو پھر چودہ اگست ختم ہو کر پندرہ اگست کب شروع ہوا

یہ تو ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ پاکستان اگست انیس سو سینتالیس میں وجود پذیر ہوا ۔لیکن پاکستان کا یومِ آزادی چودہ اگست ہے یا پندرہ اگست ؟ میرے کنفیوژن کی کچھ تاریخی وجوہات ہیں۔

مثلاً شاہِ انگلستان نے اٹھارہ جولائی انیس سو سینتالیس کو جس ’انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ‘ کی توثیق کی اس کے مطابق انڈیا سے پندرہ اگست کو برطانوی اقتدار ختم ہوجائے گا اور دو آزاد مملکتیں وجود میں آجائیں گی۔

چودہ اگست کو وائسرائے ماؤنٹ بیٹن کراچی پہنچے اور دستور ساز اسمبلی کے سامنے شاہِ انگلستان کا پیغام پڑھ کر سنایا۔اقتدار کی منتقلی کی اس دستاویز پر دستخط کئے جس کا اطلاق نصف شب بارہ بجے سے ہونا تھا۔

چودہ اگست کی شب گیارہ بجے لاہور ، پشاور اور ڈھاکہ سے آل انڈیا ریڈیو کی نشریات ختم ہوگئیں اور بارہ بجے شب لاہور ریڈیو سٹیشن سے ظہور آزر اور ڈھاکہ ریڈیو سٹیشن سے کلیم اللہ نے انگریزی میں اعلان کیا ’دس از پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس‘ جبکہ پشاور ریڈیو سٹیشن سے یہی اعلان آفتاب احمد بسمل نے اردو میں کیا۔

پندرہ اگست کی صبح پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس سے بانیِ پاکستان کا پہلا پیغام نشر ہوا جس کے آغاز میں ہی کہا گیا کہ میں پاکستان کی آزاد اور خودمختار مملکت کے پہلے دن پندرہ اگست کے موقع پر پوری قوم کو تہہ دل سے مبارک باد دیتا ہوں۔ (بانیِ پاکستان کا یہ خطاب آج بھی قومی آرکائیوز اور یو ٹیوب پر موجود ہے)۔

پندرہ اگست کی صبح ہی بانیِ پاکستان سےلاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عبدالرشید نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کا حلف لیا اور پھر گورنر جنرل نے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان اور انکی چھ رکنی کابینہ سے حلف لیا۔

میری الجھن یہ ہے کہ اگر یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ پاکستان کا یومِ آزادی چودہ اگست ہے تو پھر اسکے لئے ٹائم مشین کو چند دن اور گھنٹے پیچھے لے جا کر تاریخی ریکارڈ میں تھوڑی سی تبدیلی کرنی پڑے گی۔

مثلاً یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ برطانوی پارلیمان اور بادشاہ کے توثیق شدہ انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ کے مطابق پاکستان چودہ اگست کو وجود میں آنا تھا اور بھارت پندرہ اگست کو آزاد ہونا تھا۔

اگر پاکستان چودہ اگست کو وجود میں آیا تو پھر ایسا کیوں ہوا کہ چودہ اگست کی رات گیارہ بجے تک مسلسل تئیس گھنٹے ایک آزاد پاکستان کے تین ریڈیو سٹیشنوں سے ’یہ آل انڈیا ریڈیو ہے‘ گونجتا رہا۔

اگر پاکستان اور بھارت چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی شب رات بارہ بجے وجود میں آئے تو پھر چودہ اگست ختم ہو کر پندرہ اگست کب شروع ہوا ۔رات بارہ بجے ، بارہ بج کے ایک منٹ پر یا پھر ساڑھے بارہ بجے؟

اگر یہ دلیل موثر ہے کہ چودہ اگست کو ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے کراچی میں اقتدار کی منتقلی کی دستاویز پر دستخط ہوتےہی پاکستان وجود میں آگیا تو پھر کیا وجہ تھی کہ ایک اصول پسند محمد علی جناح نے گورنر جنرل کا حلف لینے کے لئے پندرہ اگست کی صبح تک انتظار کیا۔چودہ اگست کو حلف اٹھانے میں کیا قانونی و انتظامی رکاوٹ تھی؟ ایک آئین و قانون پسند جناح نے پورے چوبیس گھنٹے تک ایک نو آزاد ملک کو بغیر حکومت کے کیسے رہنے دیا؟

اور یہ کہ اگر چودہ اگست ہی یومِ آزادی ہے تو پھر قوم کے نام بانیِ پاکستان کا پہلا تہنیتی پیغام پندرہ اگست کو کیوں نشر ہوا اور ان سے یہ فاش غلطی کیسے ہوگئی کہ وہ اپنے پیغام میں پندرہ اگست ایک آزاد مملکت کا پہلا دن قرار دے رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ جون انیس سو اڑتالیس میں وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کی صدارت میں کابینہ نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کا یومِ آزادی چودہ اگست ہی تصور ہوگا۔تو کیا گورنر جنرل محمد علی جناح نے اس فیصلے کی توثیق کی تھی۔کیا کسی کے پاس کابینہ کے اس فیصلے کا گزٹ ریکارڈ موجود ہے؟

یونہی ایک خیال آرہا ہے کہ جب تربوز کو درمیان سے دو ٹکڑے کیا جاتا ہے تو کیا وہ ایک ساتھ ایک ہی لمحے میں کٹتا ہے یا ایک ٹکڑا دوسرے ٹکڑے سے ایک منٹ پہلے بھی الگ ہو سکتا ہے؟

اسی بارے میں