قبائلی علاقوں میں اصلاحات

Image caption یہ بات خوش آئند ہے کہ پچھلے سو سالوں میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایف سی آر میں کوئی ترمیم کی گئی ہے: ڈاکٹر خادم حسین

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اصلاحات لانے کے لیے فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) میں ترامیم اور فاٹا میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت تو دے دی گئی ہے لیکن جو قانون قبائلیوں کے خلاف انتہائی غلط طریقے سے استعمال کیا گیا یا جس سے وہ شدید متاثر رہے ہیں، ان میں کوئی خاص تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

قبائلی علاقوں میں سو سال سے زائد عرصہ سے رائج ایف سی آر قانون میں ترامیم کا خیر مقدم تو کیا جا رہا ہے تاہم اس قانون کی ایک متنازع شق جسے اجتماعی ذمہ داری کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں لائی گئی ہے۔

پاکستان: قبائلی علاقوں کے خصوصی قوانین تبدیل

پہلے اس شق کے تحت پولیٹکل ایجنٹ کو اختیار حاصل تھا کہ وہ پورے قبیلے کو کسی بھی جرم میں گرفتار کر کے اسے کئی سال تک پابند سلاسل رکھے۔ تاہم ایف سی آر دو ہزار گیارہ کے ترمیمی بل میں یہ اختیار واپس لے لیا گیا اور اب پورے قبیلے کو گرفتار نہیں کیا جا سکے گا بلکہ کسی قبیلے کے خلاف کارروائی مرحلہ وار طریقے سے ہوگی۔ یعنی پہلے مرحلے میں اس کے قریبی رشتہ دار گرفتار کیے جا سکیں گے، پھر قوم اور قبیلہ وغیرہ وغیرہ۔

اس شق میں مزید یہ اضافہ کیا گیا ہے کہ اس کے تحت سولہ سال سے کم اور پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے افراد کو گرفتار نہیں کیا جا سکے گا۔

قبائلی امور پر نظر رکھنے والے سنئیر تجزیہ نگار ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ اجتماعی ذمہ داری کی شق مکمل طور پر ختم نہیں کی جا سکی ہے لیکن یہ بات خوش آئند ہے کہ پچھلے سو سالوں میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایف سی آر میں کوئی ترمیم کی گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ سزا کے خلاف ایپلیٹ بینچ بھی قائم کیا گیا ہے اور جسے سزا ہوتی ہے اسے یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اس کے خلاف اپیل دائر کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’فاٹا کو ایک سازش کے تحت سیاسی اور معاشی طور پر ایک بلیک ہول بنا دیا گیا تھا اور پھر دہشت گردی اور شدت پسندی کو اس سے خوا مخوا جڑا گیا تاہم حالیہ اصلاحات سے قبائلی علاقوں کی ترقی کی راہیں ہموار ہونگی۔‘

یہ بھی پہلی مرتبہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازی دی گئی ہے۔ اس سے پہلے فاٹا میں انتخابات تو ہوتے تھے اور امیدواروں کے مابین انتخابی مقابلے بھی ہوتے تھے لیکن کسی امیدوار کو کسی سیاسی جماعت کا پلیٹ فارم استعمال کرنے اور نہ کسی سیاسی جماعت کے انتخابی نشان سے انتخاب لڑنے کی اجازت تھی۔

اس شق کے تحت سیاسی جماعتوں کو جلسے جلوس کرنے اور دیگر سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہوگی۔

خیبر ایجنسی میں مسلم لیگ نواز گروپ کے جنرل سیکریٹری اکرم اللہ جان کوکی خیل کا کہنا ہے کہ فاٹا میں اصلاحات سے قبائلی عوام کے کچھ دیرینہ مطالبات تو پورے ہوگئے تاہم اس سے قبائل مطمئین نظر نہیں آ رہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ دن سے حکومت کی جانب سے کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے حالانکہ ایف سی آر کے جن شقوں میں ترمیم کی ضرورت تھی ان کو اس طرح پورا نہیں کیا گیا۔

Image caption ایف سی آر کے جن شقوں میں ترمیم کی ضرورت تھی ان کو اس طرح پورا نہیں کیا گیا: اکرم اللہ جان کوکی خیل

قبائلی علاقوں میں اہم انتظامی عہدوں پر کام کرنے والے سابق بیوروکریٹ رستم شاہ مہمند کا کہنا ہے کہ فاٹا میں آج کل سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے لیکن اصلاحات میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائیوں کی وجہ سے لاکھوں افراد قبائلی علاقے چھوڑے کر دیگر مقامات پر پناہ لیے ہوئے ہیں اور حکومت کو ان لوگوں کو دوبارہ اپنے اپنے علاقوں میں آباد کرانے کےلیے اہم اقدامات اٹھانے ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ ایف سی آر میں ترمیم سے زیادہ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ فاٹا میں ترقیاتی سکیموں کا جال بچھایا جائے تاکہ وہاں پانی، بجلی، سکول، سڑک، پانی کا صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کو مہیا کیا جا سکے۔

ان کے مطابق اسلام آباد میں بعض افراد اور لابیز بیٹھی ہوئی ہیں جنھیں پہاڑوں میں رہنے والے افراد کے مسائل کے بارے میں کچھ علم نہیں اور نہ ہی وہ کبھی ان علاقوں کا دورہ کر سکیں ہیں لیکن باتیں فاٹا میں نظام کی تبدیلی کی کرتے ہیں۔

اسی بارے میں