تھر میں موروں کے محافظ

تصویر کے کاپی رائٹ Natural History Museum
Image caption پاکستان میں مور سندھ میں زیادہ پایا جاتا ہے

صحرائے تھر میں بارش کی رم جھم کے ساتھ گیت بھی گونجنے لگتے ہیں، یہاں کے لوگوں کے دکھ سکھ کا دارو مدار بارشوں پر ہے اور جب بارش ہوتی ہے تو چھوٹوں بڑوں کے ہونٹوں پر گیت آجاتے ہیں۔ اس سال بھی تھر میں غیر معمولی بارشیں ہوئی ہیں۔

یہ بارشیں موروں کے افزائش نسل کا بھی موسم ہوتی ہیں، اس موسم میں مور انڈے دیتے ہیں۔ جانوروں اور پرندے پالنے اور فروخت کرنے والے تاجروں کو بھی یہ دن تھر کھینچ لاتے ہیں اور موروں اور ان کے انڈوں کی غیر قانونی تجارت کا آغاز ہوجاتا ہے، مگر اب یہ ناممکن تو نہیں دشوار ضرور ہوگیا ہے۔

ننگر پارکر کی دو یونین کونسلوں میں دو سو ایسے رضاکاروں کا گروپ تشکیل دیا گیا ہے، جنہیں’گرین گارڈ‘ کہا جاتا ہے اور یہ موروں کے لیے مخبری کرتے ہیں۔

ماحول کی بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے سوسائٹی فار کنزرویشن اینڈ پروٹیکشن آف انوائرنمنٹ یعنی ’سکوپ‘ نے ان رضاکاروں کو تربیت دی ہے۔

سکوپ کے ضلعی کوآرڈینیٹر بھارو مل آمرانی کا کہنا ہے کہ ان رضاکاروں کو جنگلی حیات اور محمکہ جنگلات کے قانون سے روشناس کرایا گیا ہے۔

’اگر کوئی گرین گارڈ کسی شخص کو مور، خرگوش یا ہرن کا شکار کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ اپنے پاس موجود سیٹی بجاتا ہے جس سے دیگر رضاکار جمع ہوجاتے ہیں اور وہ شکاری کو جنگلی حیات کے قانون اور اس کی خلاف ورزی کے نتائج کے بارے میں بتاتے ہیں، اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو ان کے پاس حکام ، ماحول دوست لوگوں اور صحافیوں کو ٹیلیفون نمبر ہوتے ہیں جن کو آگاہ کرتے ہیں تاکہ سماجی دباؤ ڈالا جا سکے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ننگر پارکر کی دو یونین کونسلوں میں دو سو رضاکاروں کا گروپ بنایا گیا ہے

مور کا شمار ان پرندوں میں ہوتا ہے جن کی نسل کو خطرہ لاحق ہے، ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے آئی یو سی این نے مور کو اپنی ریڈ لسٹ میں شامل کیا ہے، جبکہ سندھ حکومت موروں کے شکار کے مزید اجازت نامے جاری نہیں کرتی۔

مانسریو میر محمد سموں گاؤں میں کے ریٹائرڈ استاد خضر سموں بھی گرین گارڈ ہیں۔ ان کےگاؤں میں تین ہزار مور اور اتنی ہی تعداد میں جنگلی خرگوش موجود ہیں۔ خضر سموں کا کہنا ہے کہ یہ ان لوگوں کی کوششوں سے محفوظ ہیں ورنہ جن علاقوں میں محکمہ جنگلی حیات کام کر رہا ہے وہاں ان کی تعداد کم ہو رہی ہے۔

یہ گرین گارڈ گگر یا لوبان کے درختوں کی بھی نگہبانی کرتے ہیں تاکہ کوئی انہیں کٹ لگاکر کیمیکل کی مدد سے گوند حاصل نہ کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گگر کے درخت کو کیمیکل لگانے سے یہ سوکھ جاتا ہے۔ کئی پرندوں کے لیے یہ درخت آشیانہ اور کئی جانوروں کی مرغوب غذا ہے۔

ننگر پارکر کے علاقے رتے جی ڈھانی کے رہائشی لووجی بھی گرین گارڈ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ درخت تو کارونجھر پھاڑ کی خوبصورتی ہے، ’اگر ایسے ہی درخت کٹتے اور گھٹتے رہے تو یہاں بارشیں نہیں ہوں گی اور سوکھا پڑ جائے گا اس لیے گگرال کا تعلق ہماری زندگیوں سے جڑا ہوا ہے۔ جو اسے کاٹتے ہیں ہم انہیں روکتے ہیں اگر نہ مانیں تو پھر درخواست دیتے ہیں‘۔

محکمہ جنگلی حیات نے گزشتہ چھ ماہ میں مور اور ہرن کے شکار کے پچیس مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔ مگر مقامی میڈیا میں کئی بار بااثر افراد کی جانب سے شکار کی خبریں شائع ہوتی ہیں جن پر کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا جاتا۔

مور سندھ میں زیادہ پایا جاتا ہے، جنگلی حیات سے محبت رکھنے والے لوگوں کا یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ اسے صوبائی پرندہ قرار دیا جائے، پچھلے دنوں وائرس پھیلنے سے بھی موروں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوگئی تھی۔

اسی بارے میں