’جناح اور ذوالجناح‘

موہن داس گاندھی اور محمد علی جناح

پاکستان میں سب سے زیادہ جس شخص کا ماتم کیا جاتا ہے وہ ہیں محمد علی جناح۔ کاش جناح چند روز اور زندہ رہتے۔

کاش ہم لوگ جناح کے پیغام کی اصلی روح کو پہچانتے۔ اور ہمیشہ یہ بحث کہ کیا جناح پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانا چاہتے تھے۔ یہاں سب شیروانی پہنیں گے اور اردو بولیں گے یا جناح اِسے ایک ایسی ریاست بنانا چاہتے تھے جہاں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا اور تہمد، پاجامے ایک ساتھ ہنسی خوشی رہیں گے۔

اسلام کا قلعہ اور سیکولر بہشت کے چاہنے والے کِسی بات پر متفق ہوں نہ ہوں اس بات پربہرحال متفق ہیں کہ یہ وُہ پاکستان نہیں جس کا خواب جناح نے دیکھا تھا۔

کوئی اسے مودودی کا پاکستان کہتا ہے۔ کوئی جنرل ضیا کا پاکستان اور جِن کا ایمان سب سے زیادہ مضبوط ہے وہ اِسے شیطانی کارخانہ قرار دے کر اِس کے خلاف مُسلّح جدوجہد کو عین جہاد سمجھتے ہیں۔

اس خرابی کی بنیاد وہ تقریر بتائی جاتی ہے جو گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کو محمد علی جناح نے قانون ساز اسمبلی میں کی تھی۔ اس تقریر کو دہرا کر لبرل حضرات جھوم جھوم جاتے ہیں اور اسلام کے قلعے کے محافظ کہتے ہیں کہ ہاں ٹھیک ہے ہم کسی کو مسجد مندر جانے سے کہاں روکتے ہیں لیکن پشاور یونیورسٹی والی وُہ تقریر بھی تو یاد رکھو جِس میں اُنہوں نے پاکستان کو اسلام کی لیبارٹری سے تشبیہ دی تھی۔

لیکن اگر آپ جناح کی گیارہ اگست والی تقریر سنیں اور اسے پالیسی بیان کے بجائے ایک پیش گوئی کے طور پر پڑھیں تو آپ کو حضرت جناح کی وجدانی طاقت پر ایمان آجائے گا اور آپ سمجھ جائیں گے کہ کچھ لوگ ان کے نام کے ساتھ رحمتہ اللہ علیہ کا لاحقہ لگانے پر کیوں مُصر ہیں۔

آپ نے فرمایا تھا کہ لوگوں کو پوری آزادی ہے کہ وُہ اپنی مسجدوں، مندروں اور باقی عبادت گاہوں میں جائیں۔ آپ کو اس معاملے میں مکمل آزادی ہے۔

اب اپنے دِل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا ہماری مسجدیں جتنی آباد ہیں پہلے کبھی تھیں۔ کیا اِس مملکت خداداد میں جتنی تعداد میں مسجدیں ہیں پہلے کبھی تھیں۔ قائداعظم کی گیارہ آگست والی تقریر جب جاری تھی تو لاکھوں لوگ لٹے پٹے قافلوں کی صورت میں رواں دواں تھے۔

کیا ان قافلے والوں نے کبھی یہ سوچا ہوگا کہ نمازِ جمعہ کے وقت ایسا بھی مقام آئے گا کہ نمازی پارکنگ ڈھونڈتے ڈھونڈتے نماز قضا کر بیٹھیں گے۔ اور صرف جمعۃ المبارک ہی کیا کبھی اسلامیانِ ہند نے ایسا خواب بھی دیکھا ہو گا کہ وُہ محلہ اور بستی جہاں نہ پینے کو پانی ہوگا، نہ کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا انتظام، نہ بچوں کا سکول وہاں بھی مسجد ہوگی اور اگر ہمیں اُس مسجد کے امام سے کوئی فقہی اختلاف ہوا تو ہم اُسی گلی کے دوسرے کونے پر ایک اور مسجد تعمیر کریں گے اور اللہ کے فضل سے وہ مسجد بھی آباد ہو گی۔

تو جناح صاحب کی یہ ہدایت کہ مسلمانوں کو مسجد جانے کی اجازت ہے، مسلمانوں نے دل سے مانی اور اگر ان کی یہ پیش گوئی تھی تو صحیح ثابت ہوئی۔

رہی بات مندروں، کلیساؤں اور دوسری عبادت گاہوں کی تو یقینًا کچہ زیادتی ہوئی لیکن اگر آج بھی مندر یا کلیسا میں عبادت کے دِن جائیں تو خوف کے تمام سایوں کے باوجود آپکو یہ جان کر خوشگوار حیرانگی ہوگی کہ جتنے مسیحی اور ہندو بھائی اب عبادت گاہوں میں جاتے ہیں پہلے کبھی نہ جاتے ہوں گے۔ بلکہ حال ہی میں ایک مسیحی بزرگ یہ شکایت کرتے پائے گئے کہ ان کی برادری کے نوجوان دنیاوی تعلیم کو بھول کر مذہبی شعبدہ بازوں کے پیچھے جا رہے ہیں۔

آخر مسیحی ہمارے ساتھ رہتے ہیں، ہم سے کچھ تو سیکھنا ہی تھا۔ یہ بات درست ہے کہ جناح خود ایک اقلیتی فرقے سے تعلق رکھتے تھے اور اُنہوں نے یہ نہ سوچا ہوگا کہ اُنکے بنائے ہوئے ملک میں منتخب اسمبلیاں کُفر کے فتوے جاری کریں گی اور جناح کے دیس میں ذوالجناح کا جلوس بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ لیکن ان سب خرابیوں کے باوجود یہ بات طے ہے کہ ہم سب نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بھی عبادت گاہوں کی رونق خوب بڑھائی ہے۔

آگر آپ نے گیارہ اگست والی تقریر پوری پڑھی ہو تو یہ بھی جانتے ہوں گے کہ تقریر کے زیادہ تر حصے میں محمد علی جناح نے غربت، رشوت ستانی اور اقرباء پروری کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ نہ جانے وُہ باتیں ہمارے دل کو کیوں نہیں گرماتیں۔ نہ جانے ہمیں صرف عبادت گاہوں والی بات کیوں یاد رہ گئی۔

کیا ہی اچھا ہوتا کہ جناح صاحب یہ بھی فرما جاتے کہ اگر آپ کسی عبادت گاہ نہیں جانا چاہتے اور گھر بیٹھ کر ٹی وی دیکھ کر کُڑھنا چاہتے ہیں تو اُسکی بھی آزادی ہے۔

اسی بارے میں