’اب برقعہ پہننے کا کوئی دباؤ نہیں‘

پاکستان کے شمال مغرب میں واقع وادی سوات اب بھی شدت پسندی کے اس دور کے اثرات سے نکلنے کی کوشش میں ہے جب طالبان کی نظر میں ان کے عقائد کے برخلاف عمل کرنے والے لوگ غیر اسلامی اور ان کا انجام موت تھا۔سنہ دو ہزار نو میں فوجی آپریشن شروع کیے جانے تک سوات میں چار سو سے زائد لڑکیوں کے سکول تباہ کیے جا چکے تھے۔ اب سوات کے حالات میں وقت کے ساتھ ساتھ مثبت تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ سوات کی ایک مقامی طالبہ اور علاقے میں وکالت کی تعلیم حاصل کرنے والی پہلی خاتون نے نوشین عباس کو بتایا کہ وادی میں حالات کس طرح بہتر ہو رہے ہیں۔

ملالئی یوسف زئی، آٹھویں جماعت، خوشحال سکول

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’حالات بدل گئے ہیں اور ہم لوگ جہاں جانا چاہیں جا سکتے ہیں‘

سوات میں طالبان کے آنے تک حالات بالکل ٹھیک تھے۔ طالبان نے آ کر سوات کا امن برباد کر دیا، لوگوں کو بیچ شہر ذبح کیا اور اتنے بےقصور لوگوں کو مارا کہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا پہلا نشانہ سکول تھے، خاص طور پر لڑکیوں کے سکول اور کم از کم چار سو سکول تباہ کیے گئے اور پچاس ہزار سے زائد طالب علم شدت پسندی سے متاثر ہوئے۔

ہمیں ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا تھا کہ کہیں طالبان ہمارے چہروں پر تیزاب نہ پھینک دیں یا ہمیں اغوا نہ کر لیں۔ وہ جانوروں سے بدتر تھے اور کچھ بھی کر سکتے تھے۔ اس لیے ہم لوگ اس دوران اکثر یونیفارم نہیں پہنتے تھے یعنی عام کپڑوں میں ملبوس، کتابیں اپنی چادروں میں ڈالے چھپ چھپ کر سکول جایا کرتے تھے۔

فوجی آپریشن کے بعد حالات معمول کے مطابق ہو گئے ہیں اور فوج معیاری سکولوں کو تعمیر کرنے کا کام سرانجام دے رہی ہے۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ یہ سکول جلد از جلد تعمیر کیے جائیں کیونکہ گرمی بہت شدید ہے اور ہمارے لیے خیموں میں پڑھنا لکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اب ہر کوئی سکول جا سکتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ طالبان اب سوات کا امن برباد نہیں کریں گے۔

جب طالبان آئے تھے تو انھوں نے عورتوں کے بازار جانے پر اور خرید و فروخت کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ایک دفعہ میری والدہ کچھ خریدنے کے لیے بازار گئی تو طالبان کے ایک رکن نے انھیں روک کر کہا ’تم نے وہ برقعہ کیوں نہیں پہنا ہوا جسے پہننے کو ہم نے تم سے کہا تھا؟‘ اس نے میری والدہ کو پھر کبھی بازار نہ آنے کو کہا اور وہ ڈر کے مارے بھاگتی ہوئی گھر چلی گئیں۔

لڑکیوں کو رکشوں میں بیٹھنے کی اجازت تھی لیکن صرف اور صرف اگر وہ برقعہ میں ملبوس ہوں۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں اور ہم لوگ جہاں جانا چاہیں جا سکتے ہیں۔ اب ہم پر برقعہ پہننے کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔

صائمہ انور، زیرِ تعلیم وکیل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’لگ رہا ہے کہ مردوں نے مجھے اور میرے کام کو تسلیم کر لیا ہے‘

جھڑپ کے دوران میں ’بیچلر آف لا‘ ڈگری کے پہلے سال میں تھی اور یہ میرے لیے مشکل وقت تھا۔ ہمارے امتحان ہونے تھے لیکن سکول کے منتظمین نے ہمیں کہا کہ تصادم کی وجہ سے امتحان نہیں ہوں گے۔ جب ہماری ڈگری کا دوسرا سال شروع ہوا تو ہمیں کہا گیا کہ لڑکیاں کالج نہیں جا سکتیں اور اس بات پر ہم بہت دکھی ہوئے۔

جب میں اس پیشے میں آئی تو مجھے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس علاقے میں میرے سوا کوئی خاتون وکیل یا زیر تعلیم خاتون وکیل نہیں ہے۔ میرے لیے بیشتر مردوں کا سامنا کرنا اور ان سے کام کاج کے سلسلے میں بات چیت کرنا بڑا مشکل تھا۔

میرے پاس کوئی الگ بیت الخلاء نہیں ہے اور میں مردوں کے لیے بنایا گیا بیت الخلاء ہی استعمال کرتی ہوں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مجھے لگ رہا ہے کہ مردوں نے مجھے اور میرے کام کو تسلیم کر لیا ہے۔

اگرچہ چند افراد میری حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن زیادہ تر حوصلہ افزائی ہی کرتے ہیں۔ اب میں بھی پہلے کی نسبت ان کے گرد زیادہ آرام دہ محسوس کرتی ہوں اور مجھے نہیں لگتا کہ میں واحد خاتون ہوں۔

سوات سیاحت کا گڑھ تھا اور یہ میری خواہش ہے کہ ہر طرح کے لوگ دوبارہ سوات آئیں اور یہاں کی خوبصورتی سے محظوظ ہوں۔ اب یہاں کسی قسم کی لڑائی، جھڑپ، شدت پسندی نہیں ہے اور امن ہے۔ سوات میں بھرپور قدرتی خوبصورتی ہے۔

سوات میں ہونے والے تصادم کے بعد میرے اس پیشے میں آنے کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ میں دنیا کو بتانا چاہتی تھی کہ سوات کے لوگ شدت پسند نہیں بلکہ جدید سوچ کے حامل پٹھان ہیں۔

اسی بارے میں