واپڈا کے بجٹ میں نوے ارب کے بے قاعدگی

بجلی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption واپڈا میں فراڈ ، چوری اور مالی گھپلوں کے مد میں تقریبا ساڑھے تینتالیس کروڑ روپے کا نقصان کیا گیا۔

پاکستان میں پانی اور بجلی کے ادارے ’واپڈا‘ کے بجٹ میں نوے ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ’واٹر اینڈ پاور ڈیویلپمینٹ اتھارٹی‘ یا ’واپڈا‘ کے مالی سال سنہ دو ہزار نو اور دس کے بجٹ میں نوے ارب روپے سے زیادہ مالی بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی ہے۔

آڈیٹر جنرل کی یہ رپورٹ گزشتہ دنوں حکومت نے قومی اسمبلی میں پیش کی ہے لیکن اس پر بحث یا کارروائی تاحال نہیں ہوسکی۔

نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واپڈا کی مالی بے ضابطگیوں میں ساٹھ کروڑ ڈالر سے زیادہ زر مبادلہ کی رقم بھی شامل ہے جو قواعد کی خلاف ورزی کرتے خرچ کی گئی ہے جبکہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ساڑھے بتیس ارب روپے کی مزید رقم بھی خرچ کی گئی ہے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واپڈا میں فراڈ اور چوری مالی گھپلوں کے مد میں تقریبا ساڑھے تینتالیس کروڑ روپے ضائع کیے گئے ہیں۔ جبکہ واپڈا حکام کی غفلت کی وجہ سے تقریبا بیالیس کروڑ کا نقصان ہوا۔

رپورٹ کے مطابق مختلف کمپنیوں کو مطلوبہ رقم سے زیادہ ادائیگی کے مد میں تقریبا ساڑھے نو کروڑ کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ جبکہ پانچ ارب سترہ کروڑ روپے کے اخراجات کا واپڈا نے آڈٹ حکام کو ریکارڈ ہی فراہم نہیں کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانی ذخیرہ کرنے کی تین سہولیات جس میں تربیلا، منگلا اور چشمہ شامل ہے اس میں سنہ دو ہزار دس تک ریت بھرجانے کی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش چھ ملین ایکڑ فٹ کم ہوگئی ہے جوکہ تینتیس فیصد بنتی ہے۔ جبکہ سنہ دو ہزار پندرہ تک یہ گنجائش مزید کم ہوکر چھتیس فیصد اور سنہ دو ہزار بیس میں چالیس فیصد ہوسکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے ٹھیکے میں اصل رقم سے پانچ ارب سترہ کروڑ روپے سے زیادہ رقم ادا کی گئی اور اس کے دستاویزات بھی آڈٹ حکام کو پیش نہیں کیے گئے۔ اس پروجیکٹ میں پونے انتیس کروڑ روپے سے زیادہ رقم لگژری گاڑیوں کی خریداری پر خرچ کی گئی ہے اور ان گاڑیوں کی خریداری پر مارکیٹ کی قیمت سے آٹھ کروڑ سترہ لاکھ روپے زیادہ ادا کیے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے نیلم جہلم منصوبے کے ٹھیکیدار کو قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انشورنس کے مد میں پونے تئیس کروڑ روپے سے زیادہ رقم ادا کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ اس منصوبے کے لیے رقم پاکستان میں تمام صارفین کے بلوں پر سرچارج عائد کرکے لی جاتی ہے اور اس رقم میں گھپلوں کے ذمہ داران کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پرویز مشرف کی سابقہ حکومت اور موجودہ حکومت نے کرائے کے بجلی گھروں کے پندرہ منصوبے منظور کیے جس سے ستائیس سو میگا واٹ بجلی سسٹم میں آنی تھی لیکن سنہ دو ہزار دس تک صرف باسٹھ میگا واٹ پیپکو حاصل کرسکا۔ پندرہ معاہدوں میں سے نو مؤثر ہوسکے اور حکومت نے پیشگی ادائیگی کرتے ہوئے سولہ ارب ساٹھ کروڑ روپے ادا کیے۔

آڈیٹر جنرل نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ جو معاہدے قابل عمل نہیں ہوئے انہیں منسوخ کیا جائے اور انہیں ادا کردہ رقم سود سمیت واپس لی جائے اور متعلقہ کمپنیوں سے جرمانے کی رقم وصول کی جائے۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت نے ’نو دیرو II رینٹل پاور پروجیکٹ‘ کو زیادہ ریٹ دینے کی وجہ سے قومی خزانے کو ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان ہوا۔ جبکہ نگران حکومت کے دور میں فیصل آباد میں کرائے کا بجلی گھر لگانے کے ایک منصوبے میں ٹیکنو انجنیئرنگ سروس کو فائدہ پہنچاتے ہوئے قومی خزانے کو اسی کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

آڈیٹر جنرل نے کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہچانے کے معاملات کی نشاندہی کی ہے۔ جس سے بظاہر لگتا ہے کہ یہ کرپشن کے کیسز ہیں۔

اسی بارے میں