’نیب کرپشن روکنے میں ناکام رہا‘

Image caption رپورٹ کے مطابق انیس لاکھ ڈالر ایک نامعلوم شخص/کمپنی کو پتہ نہیں کس مقصد کے لیے ادا کیے گئے ہیں

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے قومی احتساب بیورو (نیب) میں کروڑوں روپوں کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ادارہ کرپشن روکنے میں ناکام رہا ہے اور جس مقصد کے لیے یہ قائم ہوا وہ بھی حاصل نہیں ہوسکا۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ادارے کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بینظیر بھٹو اور دیگر کے خلاف بیرون ملک مقدمات پر انتیس کروڑ تیرہ لاکھ باسٹھ ہزار روپے سے زیادہ اخراجات کیے گئے لیکن نتیجہ کوئی نہیں نکلا۔ بیرون ممالک ایسی قانونی مدد فراہم کرنے والی کمپنیوں کو لاکھوں ڈالر اور پاؤنڈ سٹرلنگ ادا کیے گئے جس کا ریکارڈ نہیں ہے۔

’پاکستان بنام بینظیر بھٹو اور دیگر‘ مقدمے کی مد میں بارہ لاکھ چھیاسٹھ ہزار چھیاسٹھ برطانوی پونڈ ادا کیے گئے جوکہ تیرہ کروڑ تریسٹھ لاکھ چھیانوے ہزار روپے سے زیادہ رقم بنتی ہے۔ لندن میں اثاثوں کا پتہ چلانے کے لیے انٹیلی جنس پر دو لاکھ ایک ہزار نو سو انیس پونڈ خرچ کیے گئے۔‘

رپورٹ کے مطابق انیس لاکھ آٹھ ہزار نو سو بیاسی ڈالر ایک نامعلوم شخص/کمپنی کو پتہ نہیں کس مقصد کے لیے ادا کیے گئے ہیں۔ ایک اور اس طرح کی نامعلوم ادائیگی بیالیس ہزار دو سو اکانوے ڈالر کی ہے اور ان دونوں کا ریکارڈ ہی نہیں ہے کہ کس کو کس مقصد کے لیے رقم دی گئی؟

ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے جس طرح اپنی رپورٹ میں بدعنوانی کو روکنے کے لیے قائم ادارے میں جن بدعنوانیوں کی نشاندہی کی ہے اس سے تو یہ صاف پتہ چلتا ہے کہ کرپشن روکنے والا ادارہ خود کرپشن کا شکار ہے۔

رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ نیب کے آپریشن سے ملک میں کرپشن میں خاطر خواہ کمی یا اچھی حکمرانی کے قیام کو تقویت نہیں ملی۔۔۔ دنیا میں آج بھی پاکستان کا شمار دنیا کے بہت کرپٹ ممالک میں ہوتا ہے۔‘

آڈیٹر جنرل نے کہا ہے کہ نیب کی کارکردگی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جو مقدمات دائر ہوئے اس میں سے ایک تہائی مقدمات میں ملزم چھوٹ گئے یا مقدمات واپس لے لیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق نیب نے نعرہ تو ’سب سے پہلے بڑی مچھلی‘ کا لگایا لیکن نو سال میں بیشتر مقدمات چھوٹے درجے کے ملازمین یا متوسط درجے کے لوگوں کے خلاف بنائے۔

انیس سو ننانوے میں قیام سے لے کر جون سنہ دو ہزار آٹھ تک پانچ ارب انیس کروڑ روپے نیب نے خرچ کیے ہیں۔ برطانیہ کے ترقیاتی ادارے ڈفڈ کے تعاون سے قومی انسداد کرپشن سٹریٹیجی بنانے پر تین کروڑ تراسی لاکھ روپے خرچ کیے لیکن اس پر مؤثر انداز میں عمل نہیں کیا گیا۔

نیب نے نو سال میں سینتالیس ہزار سے زیادہ بدعنوانی کی شکایات پر کارروائی کی جس میں اٹھائیس ہزار سات سو سے زیادہ سرکاری ملازمین، تین ہزار چھ سے زیادہ بزنس مین، تقریباً ساڑھے گیارہ سو یاستدانوں، پونے چار سو ریٹائرڈ آرمی اہلکاروں اور تیرہ ہزار سے زیادہ دیگر لوگوں کے خلاف شکایات شامل ہیں۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بتایا ہے کہ نیب نے ڈیفالٹ قرضوں میں سے ایک سو سولہ ارب روپے کی وصولی کی اور ساٹھ ارب دیگر کی ری شیڈولنگ ہوئی۔

واضح رہے کہ موجودہ حکومت نے نیب کو انتقامی ادارہ قرار دیتے ہوئے اُسے ختم کرنے اور ملک میں اپوزیشن کی مشاورت سے نیا اور غیر جانبدار ادارہ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر تاحال عمل نہیں ہوسکا ہے۔

نیب کے چیئرمین کی تقرری پر حکومت اور عدلیہ میں اختلافات کی وجہ سے یہ ادارہ آج کل بظاہر غیر فعال نظر آتا ہے۔

اسی بارے میں