بااثر سیاست دان، محروم متاثرین

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہر میں تین کیمپ لگائے گئے ہیں اور وہ بھی پانی کے گھیرے میں ہیں

حکومت نے متاثرین سیلاب کو فوری خیمے فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا مگر تاحال کہیں بھی کسی خاندان کو خیمہ دستیاب نہیں ہوسکا ہے، لوگوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نظر آتی ہے جن کے ساتھ مال مویشی بھی موجود ہیں۔

ساحلی شہر بدین میں رات کو ہوا ٹھنڈی ہوتی ہے اور اوس پڑتی ہے۔ جس کے باعث ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کھلے آسمان کے نیچے موجود بچے بیمار ہوسکتے ہیں۔

سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی جانب سے انتہائی محدود پیمانے پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، لوگوں کی شکایت ہے کہ جو تھوڑا بہت راشن تقسیم کیا جارہا ہے، وہ بھی بظاہر سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کیا جارہا ہے۔

بدین کا قصبہ پنگریو اور اس کے آس پاس کا ایک وسیع رقبہ زیرآب آْ یا ہے، شہر میں تین کیمپ لگائے گئے ہیں اور وہ بھی پانی کے گھیرے میں ہیں۔

مقامی استاد حامد جونیجو کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار حکام سے شکایت کی ہے کہ کم سے کم اس پانی کی نکاسی کا تو انتظام کیا جائے تاکہ لوگ بیت الخلاء استعمال کرسکیں مگر انہیں صرف یقین دہانی کرائی جا رہی ہے۔

اس شہر کے قریب ہی ایل بی او ڈی سیم نالے میں شگاف پڑا تھا جو تاحال بند نہیں کیا جاسکا ہے، مسلم لیگ فنکشنل کے مقامی رہنماء راشد شاہ کا کہنا ہے کہ وہ محکمہ آبپاشی کے حکام کو گذارش کرچکے ہیں مگر ابھی تک ان کی فریاد سنی نہیں گئی جس کے باعث شگاف میں سے تیزی کے ساتھ پانی خارج ہورہا ہے۔

پنگریو کے کیمپ میں دوران زچگی منگل کو ایک خاتون انتقال کرگئی ہیں۔ خاتون کے والد علی محمد خاصخیلی کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کی طبیعت خراب ہوئی تو یہاں کوئی سہولت موجود نہیں تھی جب انہوں نے اسے بدین ہپستال پہنچایا تو تب تک دیر ہوچکی تھی اور ان کی بیٹی فوت ہوگئی۔

ولی محمد خاصخیلی گاؤں کی رہائشی اس خاتون کے تین بچے ہیں جو اب اپنی نانی کے ساتھ کیمپ میں موجود ہیں۔

منگل کی رات کو تقریبا ساڑھ نو بجے پولیس کے پہرے میں سات کے قریب ٹرک بدین سے پنگریو کی جانب جاتے ہوئے نظر آئے، ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ یہ سامان حیدرآْباد سے آیا ہے اور پنگریو شگر ملز منتقل کیا جا رہا ہے۔

سیاسی حوالے سے یہ علاقہ موجودہ حکومت کی دو بااثر شخصیات کا حلقہ انتخاب ہے ان میں سے ایک قومی اسمبلی کی اسپیکر فہمیدہ مرزا ہیں تو دوسرے سندھ کے سینئر صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا ہیں۔

بالائی سندھ کی نسبت یہاں زیریں سندھ کے متاثرہ علاقوں میں اب تک کوئی ملکی یا بین الاقوامی رلیف ادارہ مدد کو نہیں پہنچا۔

نیشنل رورل سپورٹ پروگرام کے اہلکار ظہیر کھوسو کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت اپیل نہیں کرے گی تب تک اقوام متحدہ سے منسلک کوئی ادارہ نہیں آئے گا اب جب حکومت ان متاثرین کی مدد نہیں کر پا رہی تو کم سے کم ان اداروں کو تو اپیل کرے تاکہ وہ لوگوں کو کچھ رلیف مہیا کرسکیں۔

اسی بارے میں