درہ آدم خیل سے سولہ کان کن بازیاب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کوئلے کی کان : فائل فوٹو

پاکستان کے قبائلی علاقے درہ آدم خیل سے اغوا کیے گئے سولہ کان کنوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے جبکہ چار کان کن پہلے ہی اغوا کاروں کے نرغے سے فرار ہو کر واپس آگئے تھے۔

درہ آدم خیل کی پولیٹکل انتظامیہ کے حکام نے بتایا ہے کہ اخوروال میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں کو کوئی دو ماہ بعد بازیاب کرا لیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اغوا کاروں سے پولیٹکل انتظامیہ نے نہیں بلکہ کوئلے کی کان کے ٹھیکیداروں نے مذاکرات اور جرگے کیے ہیں جس کے بعد سولہ مزدوروں کی رہائی عمل میں آئی ہے۔

حکام نے یہ نہیں بتایا کہ اغوا کار کون ہیں تاہم انھوں نے کہا کہ جس علاقے میں مغویوں کو رکھا گیا تھا وہ ان کی حدود سے دور کرم ایجنسی میں واقع ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ اخوروال میں کوئلے کی کان پر دو گروہوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ سے مقامی طور پر قائم امن لشکر کے مسلح اہلکار کوئلے کی کان اور مزدوروں کی حفاظت کے لیے تعینات رہتے تھے۔

انتطامیہ کے مطابق اخورروال میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے بیس مزدوروں کو نامعلوم افراد نے دس جون کو اغوا کر لیا تھا جن میں سے چار اغوا کاروں کے نرغے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ باقی سولہ مزدور دو ماہ سے زیادہ عرصہ اغوا کاروں کے نرغے میں رہے۔ مزدوروں کا تعلق خیبر پختونخواہ کے علاقے سوات ، شانگلہ سے بتایا گیا ہے۔

مقامی اہلکاروں کے مطابق بڑی تعداد میں شدت پسندوں نے کوئلے کی کانوں کے قریب مزدوروں کے کیمپ پر دھاوا بول دیا تھا اور اسلحے کی نوک پر تمام کان کنوں کو اغوا کیا ہے۔

ان کوئلے کی کانوں کے قریب عارضی کیمپ قائم کیا گیا ہے جہاں دیگر عملے کے علاوہ کان کن رہائش پزیر ہیں۔

درہ آدم خیل میں مشتبہ طالبان کے دو بڑے گروپس ہیں جبکہ ان کے زیلی شاخیں بھی ہیں اور دونوں گروپس اپنے اپبے علاقوں میں متحرک ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقے خاص طور پشاور اور کوہاٹ میں اغوا کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پشاور سے اغوا ہونے والے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خان تاحال بازیاب نہیں کرائے جا سکے ۔ کوہاٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو بھی درہ آدم خال سے ہی اغوا کیا گیا تھا جنہیں پھر سات ماہ بعد بازیاب کر الیا گیا تھا۔

اسی بارے میں