کہانی ایک پہاڑ پر بسے دو خاندانوں کی

یمنا تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یمنا نے بھی دوڑ لگائی لیکن وہ گر گئیں۔ ان کو نشانے باز نے ٹانگ پر گولی ماری تھی۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی کا شمار دنیا کی بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں کراچی میں لسانی فسادات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پرتشدد واقعات کی زد میں آئے علاقوں میں کراچی کا علاقہ قصبہ کالونی بھی ہے۔ یہ علاقہ کراچی کے مغرب میں واقع ہے اور گنجان آباد علاقہ ہے۔

بی بی سی کے علیم مقبول نے اس علاقے میں رہنے والے دو خاندانوں سے ملاقات کی جو ان لسانی فسادات میں مختلف قوموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ دونوں خاندان ایک دوسرے سے کچھ ہی فاصلے پر رہائش پذیر ہیں۔

ایک خاندان ہے یمنا کا جو تیرہ سالہ لڑکی ہے اور یہ لوگ قصبہ کی پہاڑی کے نچلے حصے میں رہتے ہیں۔ اور دوسرا خاندان ہے چھ سالہ لائبہ کا جو اسی پہاڑی کی چوٹی پر رہتا ہے۔

یہ دونوں خاندان اگرچہ ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں لیکن اب ان دونوں مکانوں کے بیچ سیدھے راستے کو اختیار نہیں کر سکتے۔ اس راستے میں جو مرکزی سڑک ہے وہ ایک لکیر بن گئی ہے جس کے دونوں اطراف مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے پوزیشنیں لے رکھی ہیں۔

اس علاقے میں دونوں اطراف سنائپرز موجود ہیں اور دونوں اطراف کی عمارتوں پر گولیوں کے واضح نشانات یہ عندیہ دیتے ہیں کہ سڑک عبور نہ کی جائے۔

یمنا کا خاندان اردو بولنے والا ہے۔ یہ وہ افراد ہیں جو ساٹھ سال قبل برِصغیر کے بٹوارے کے بعد پاکستان آئے تھے۔ دوسری طرف لائبہ کا خاندان پٹھان ہے۔

کراچی میں خیبر پختونخوا سے آئے لوگوں کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق کراچی میں پٹھانوں کی آبادی پچاس سے ساٹھ لاکھ بتائی جاتی ہے۔ اس اضافے کی وجہ سے لسانی اعداد و شمار میں تبدیلی آ رہی ہے لیکن اس کے علاوہ ڈیڑھ کروڑ اردو بولنے والے افراد کی آبادی کو سیاسی فریق کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

لیکن حال ہی میں جب لسانی فسادات شروع ہوئے تو دکانداروں، رکشہ ڈرائیوروں اور بس ڈرائیوروں کو اغوا کیا گیا، ان پر تشدد کیا گیا اور پھر ماردیا گیا۔

یمنا نے بتایا کہ کیسے وہ ان فسادات میں اپنے خاندان کے ساتھ مکان میں محصور ہو کر رہ گئی تھی۔ یمنا نے بتایا کہ کیسے پہاڑ کی چوٹی پر موجود پٹھان مسلح افراد کی گولیاں ان کے مکان پر لگ رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تو ایسا آیا کہ انہوں نے سوچا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی اور بہن کا ہاتھ پکڑیں اور اپنے رشتہ دار کے مکان کی جانب دوڑ پڑیں جو محفوظ علاقے میں واقع ہے۔

یمنا نے بتایا کہ وہ مکان کی آہنی دیوار کے پیچھے چھپ گئے اور جب فائرنگ کی شدت میں کمی آئی تو ان کے بھائی اور بہن نے دوڑ لگائی۔ یمنا نے بھی دوڑ لگائی لیکن وہ گر گئیں۔ ان کو پٹھان نشانے باز نے ٹانگ پر گولی ماری تھی۔

یمنا نے بتایا کہ کیسے لوگوں نے ان کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ بھی فائرنگ کے باعث آگے نہیں بڑھ سکے۔ اور آخر کار ان کو کچھ لوگ اٹھا کر پچھلی گلیوں سے ہوتے ہوئے ہسپتال لے گئے۔

یمنا اب اپنے مکان میں واپس آگئی ہیں لیکن اب بھی ان کی ٹانگ پر پٹی بندھی ہے۔

لیکن حالات پشتون آبادی کے لیے بھی اتنے ہی خراب تھے۔

لائبہ کی دوست نے بتایا کہ کیسے وہ فائرنگ کے باعث مکانوں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔ انہوں نے نے بتایا کہ وہ سڑک پر کھیلنا چاہتی ہیں لیکن اب وہ نہیں کھیل سکتیں اور اسی لیے وہ مکان ہی میں گڑیوں سے کھیل لیتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لائبہ مکان سے باہر نکلی تھی اور وہ مکان میں واپس آنے کے لیے سیڑھیاں چڑھ رہی تھی جب اردو بولنے والی آبادی کے علاقے سے کسی نے لائبہ کو دو گولیاں ماریں۔

لائبہ کی دوست نے بتایا کہ ایک گولی نے لائبہ کا بازو اڑا دیا جبکہ دوسری گولی اس کے سینے پر لگی۔

لائبہ کے والد نے نہایت دشواری سے اپنے جذبات پر قابو پا کر بتایا کہ کیسے وہ باہر بھاگے اور انہوں نے اپنی اکلوتی اولاد کو خون میں لت پت دیکھا اور کیسے وہ اپنی زخمی بچی کو اٹھا کر پہاڑی سے نیچے بھاگے اور کیسے رکشے میں ان کی بچی نے ان کی بانہوں میں دم توڑ دیا۔

یمنا اور لائبہ کے خاندان والوں کو یہ معلوم نہیں کہ فسادات کیوں شروع ہوئے۔

لیکن ایک بات تو طے ہے کہ پہاڑی کے نچلے حصے میں رہنے والے اور اونچائی پر رہنے والے دونوں ہی ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ دونوں ہی ایک دوسرے پر زیادہ مسلح ہونے اور حیوان ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

تاہم ایک بات پر وہ متفق ہوتے ہیں کہ یہ سارا کیا دھرا سیاستدانوں کا ہے اور اس کی قیمت ان کے بچے کو دینی پڑ رہی ہے۔

اسی بارے میں