عامر سہیل مسلم لیگ ن میں

عامر سہیل اور نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اب جماعت یہ فیصلہ کرے گی کہ وہ کیا کام لیتی ہے: عامرسہیل

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز عامر سہیل نے عملی سیاست کا آغاز کا کر دیا ہے اور ملک کی حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون میں شامل ہوگئے ہیں۔

عامر سہیل ملک کے چوتھے کرکٹر ہیں جہنوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا ہے۔ قومی کرکٹ میں بائیں بازو سے کھلنے والے سابق اوپنر عامر سہیل نے جمعرات کو سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نون کے صدر نواز شریف سے ملاقات کی اور مسلم لیگ نون میں اپنی شمولیت کا اعلان کیا۔

عامر سہیل سے پہلے سیاست میں حصہ لینے والے قومی کرکٹروں میں حیفظ کاردار، عمران خان اور سرفراز نواز کے نام شامل ہیں۔

مسلم لیگ نون کے صدر نواز شریف نے عامر سہیل کی اپنی جماعت میں شمولیت کو ایک اچھا اضافہ قرار دیا۔

عامر سہیل نے سیاست میں حصہ لینے کے فیصلے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ ملک جن حالات سے دو چار ہے اس میں ہر پاکستانی یہ فرض ہے کہ پاکستان کی بہتری کے لیے آگے بڑے اور اسی مقصد کے لیے انہوں نے سیاست میں حصہ لیا ہے۔

انہوں نےکہا کہ پاکستان نے ان کو ایک کھلاڑی کی حیثیت سے بڑا نام دیا ہے اس لیے اب وہ پاکستان کی بہتری کے لیے کام کرناچاہتے ہیں تاکہ وہ ملک کو دوبارہ سے درست راہ پر ڈالا جاسکے۔

مسلم لیگ نون میں شمولیت کے بارے میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کا کہنا ہے کہ ملکی حالات کے بارے میں نوازشریف کی جو سوچ ہے وہ اس سے متاثر ہوکر ان کی جماعت میں شامل ہوئے ہیں۔

ایک سوال پر عامر سہیل نے کہا کہ وہ مسلم لیگ نون میں شامل ہوگئے ہیں اب ان کی جماعت یہ فیصلہ کرے گی کہ وہ ان سے کیا کام لیتی ہے۔

آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں سابق کرکٹر کا کہنا ہے کہ اس بارے میں انہوں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا اور ان کی جماعت ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔

مسلم لیگ نون کے صدر نواز شریف سیاست میں آنے سے پہلے خود بھی کرکٹ کھیلتے رہے ہیں اور اپنی وزارت عظمیْ کے دور میں لاہور کے جناح باغ میں کرکٹ کھیل کر اپنے یہ شوق پورا کرتے تھے۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان حیفظ کاردار پہلے کرکٹر تھے جنہوں نے سیاست میں حصہ لیا اور انیس سو ستر میں پیپلز پارٹی کی طرف سے پنجاب اسمبلی کے رکن بنے اور پھر صوبائی کابینہ میں بطور وزیر شامل ہوئے۔

عمران خان نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد سنہ انیس سو ستانوے میں اپنی سیاست جماعت تحریک انصاف بنائی اور وہ اس بانی سربراہ چلے آرہے ہیں۔

سرفراز نواز مختلف سیاسی جماعتوں میں رہنے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم کے ساتھ وابستہ ہیں۔

عمران خان سنہ دو ہزار دو کے انتخابات میں اپنے آبائی علاقے میانوالی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے جبکہ سرفراز نواز نے انیس سو پچاسی میں اپنی عملی سیاست کا آغاز کیا اور انیس سو پچاسی میں غیر جماعتی انتخابات میں لاہور سے پنجاب اسمبلی کے حلقہ ایک سو چار سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

کرکٹ کے علاوہ پاکستان کی ہاکی ٹیم کے دو کھلاڑی قاسم ضیاء اور چودھری اختر رسول بھی سیاست میں سرگرم رہے ہیں۔

اختر رسول نے مسلم لیگ نون سے اپنی عملی سیاست کا آغاز کیا اور تین مرتبہ لاہور سے پنجاب اسمبلی کے رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر بھی رہے۔

چودھری اختر رسول بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو نواز شریف کی حکومت کی برطرفی کے بعد مسلم لیگ قاف میں شامل ہوگئے تھے لیکن سپریم کورٹ پر حملے کے کیس کی وجہ سے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے اور اسی وجہ سے وہ انتخابی سیاست سے نااہل ہوگئے۔

قاسم ضیاء نے اپنی سیاست کا آغاز پیپلز پارٹی سے کیا اور دو ہزار دو میں ہونے والے انتخابات میں لاہور سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہونے کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی میں قائد حزب مخالف بنیں۔

دوہزار آٹھ کے عام انتخابات کے عام قاسم ضیاء کو لاہور کے صوبائی حلقے سے شسکت ہوگئی جس کے بعد انہوں نے ضمنی انتخابات میں فیصل آباد سے خالی ہونےوالی صوبائی اسمبلی نشست سے انتخاب لڑا اور کامیاب ہوئے۔

اسی بارے میں