ریلوے میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں

پاکستان ریلوے
Image caption ریلوے کا خالص حسارہ بیس ارب پندرہ کروڑ روپے سے زیادہ ہوگیا ہے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ریلوے میں پونے آٹھ ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور غبن کی نشاندہی کرتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کرکے رقم وصول کرنے کی سفارش کی ہے۔

مالی سال برائے نو اور دس کے ریلوے کے بجٹ میں سکریپ بیچنے میں انیس کروڑ سینتالیس لاکھ روپے کا غبن کیا گیا ہے۔

جبکہ سکریپ کم ریٹ پر فروخت کرنے کی وجہ سے سرکاری خزانے کو ایک ارب روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچایا گیا۔

اسلام آباد سے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق سکریپ کی فروخت پر سیلز ٹیکس نہ وصول کرکے سرکاری خزانے کو پونے چودہ کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق تین معاملات میں ساڑھے نو لاکھ روپے کی بوگس ادائیگی کی گئی ہے۔ فٹنگ آلات کی چوری کی وجہ سے پندرہ کروڑ اٹھارہ لاکھ روپے کا نقصان کیا گیا۔ لاہور میں ڈیزل ڈیپو میں پندرہ کروڑ چھیالیس لاکھ روپے کا گھپلا کیا گیا۔

آڈیٹر جنرل نے بتایا ہے کہ خانیوال میں الیکٹرک کیبل اور کراچی میں ایئر کنڈیشن چوری کرنے کی وجہ سے پونے چھ کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ جبکہ لاہور میں سوئی گیس کے بلوں کی مد میں سرکاری خزانے کو نو کروڑ ساٹھ لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لودھران سے خانیوال تک سگنل سسٹم کے ٹینڈرز کی غیر منصفانہ اندازہ لگانے کی وجہ سے ساڑھے پانچ کروڑ روپ کا نقصان ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا گیا ہے کہ ریلوے کو دیگر سرکاری محکموں کے ذمے واجب الادا رقم نہ ملنے کی وجہ سے بائیس کروڑ چالیس لاکھ روپوں کا نقصان ہوا ہے۔ جس میں سب سے زیادہ رقم محکمہ دفاع کے ذمہ ہے جو کہ اٹھارہ کروڑ بہتر لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔

جبکہ محکمہ ڈاک کے ذمہ انتالیس لاکھ اور وزیراعظم سیکریٹریٹ کے ذمہ گیارہ لاکھ روپے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کراچی سرکلر ریلوے کے لیے کراچی ارب ٹرانسپورٹ کارپوریشن قائم ہوا جس میں ریلوے نے اپنے حصے سے گیارہ کروڑ روپے زیادہ ادا کیے۔

ہیوی مکینیکل کمپلیکس سے زیادہ ریٹ پر ایک لاکھ بریک خریدنے کی وجہ سے ساڑھے تین کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان کیا گیا۔ بلا جواز اوور ٹائم کے مد میں ساڑھے اٹھاون لاکھ اور گاڑیوں کی غیر ضروری خریداری کی وجہ سے تقریبا بیالیس لاکھ کا نقصان ہوا۔

آڈیٹر جنرل نے کہا ہے کہ مالی سال نو اور دس میں ریلوے انجن کم ہونے کی وجہ سے سوا ارب روپے کم آمدن ہوئی۔ جبکہ ریلوے کا خالص حسارہ بیس ارب پندرہ کروڑ روپے سے زیادہ ہوگیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر انتظامی کنٹرول اور اندرونی آڈٹ کا نظام بہتر ہو تو ریلوے کو سالانہ کروڑوں روپے کے نقصان سے بچایا جاسکتا ہے اور اس کی کارکردگی بھی بہتر ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں