بدین میں شگاف سے متعدد دیہات زیرِ آْب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دیہی علاقوں کی جانب جانے والی سڑکیں پانی میں بہہ گئی ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ضلع بدین میں ایک بار پھر لیفٹ بنک آوٹ فال ڈرین یعنی ایل بی او ڈی میں شگاف پڑ گیا جس کے باعث پنگریو کے مزید کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں اور زیرِکاشت زمین میں بھی پانی آ گیا ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں حکام اب تک نکاسی کا انتظام نہیں کر سکے ہیں ۔

پی ڈی ایم اے کے صوبائی سربراہ پیر بخش جمالی نے نامہ نگار علی حسن کو بتایا کہ اگر نکاسی کا انتظام ہوجائے تو کسی حد تک مسئلہ آسان ہو جائے گا۔

دوسری جانب ضلع بدین کے علاقے نندو شہر اور کھڈہن میں لوگوں نے احتجاجاً اپنا کاروبار بند رکھا۔ وہ متاثرین کو امداد نہ ملنے پر احتجاج کر رہے تھے۔

ضلع کے کئی علاقوں میں لوگ کھانے پینے کی اشیاء اور خیمے نہ ملنے پر احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے لوگوں کو بڑے پیمانے پر امدادی سامان پہنچا دیا ہے۔

بدھ کو ان متاثرین نے بدین کے علاوہ ترائی، کڑیو گھنور، پٹیل اور کڈھن شہر میں دھرنے دیے جس کے باعث بدین کراچی اور بدین گولاڑچی سڑک پر ٹریفک معطل ہو گئی۔

صوبہ سندھ کے زیریں علاقوں میں حالیہ بارشوں سے حکام کے مطابق صرف ضلع بدین میں چار لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

بدین ضلع کے متاثرین کی ایک بڑی تعداد قریبی ضلع تھر پارکر منتقل ہو چکی ہے جہاں انہوں نے اونچے ٹیلوں پر پناہ لے رکھی ہے۔ان لوگوں کے ہمراہ ان کے مال مویشی بھی موجود ہیں۔

خیال رہے کہ حالیہ بارشوں اور نالوں اور نہروں میں شگاف پڑنے سے سندھ میں بدین اور ٹنڈو محمد خان کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

صوبائی حکومت نے بدین اور ٹنڈو محمد خان کے اضلاع کی تمام جبکہ میرپورخاص کی چوبیس اور تھرپارکر کی تین یونین کونسلوں کو آفت زدہ قرار دیا ہے۔

بدین کے قصبے پنگریو، کڑیو گھنور، کڈھن اور کھور واہ پانی کے گھیرے میں ہیں۔ یہاں کا تمام مواصلاتی نظام درہم برہم ہوچکا ہے اور دیہی علاقوں کی جانب جانے والی سڑکیں پانی میں بہہ گئی ہیں۔

اسی بارے میں