کراچی: تشدد جاری، چوبیس گھنٹے میں انتالیس ہلاک

کراچی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی کے علاقے کھارادر میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی واجہ کریم داد کے قتل کے بعد شہر ایک مرتبہ پھر پرتشدد واقعات کی جکڑ میں آگیا، کراچی پولیس چیف کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں انتالیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ان کے مطابق بدھ کو سترہ اور جمعرات کو بائیس افراد ہلاک ہوئے اور زیادہ تر واقعات شہر کے جنوبی علاقے میں پیش آئے ہیں۔

صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جمعرات کو چوبیس کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر کارروائی کی جائے گی۔

اس سے پہلے بدھ کو پیپلزپارٹی کے سابق رکنِ قومی اسمبلی سمیت تیرہ افراد ہلاک اور ستائیس زخمی ہوئے تھے جس کے بعد گزشتہ چوبیس گھنٹے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیس ہوگئی ہے۔

کراچی: سابق رکنِ اسمبلی سمیت تیرہ ہلاک

کہانی ایک پہاڑ پر بسے دو خاندانوں کی

زیادہ تر واقعات لیاری اور آس پاس کے علاقے میں پیش آئے ہیں، تیرہ افراد کی بوری بند لاشیں ملی ہیں، جن پر تشدد کے نشانات موجود ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ 315 افراد پرتشدد واقعات میں ہلاک ہوئے ہیں۔

پرانے کراچی میں آج کاروبار بند ہے۔ جامع کلاتھ، کھارادر، بولٹن مارکیٹ، جوڑیا بازار اور آس پاس کی دکانیں آج نہیں کھل سکی ہیں۔ ان بازاروں میں ہول سیل کا کاروبار ہوتا ہے۔

سٹی الائنس آف مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر محمد رفیق جدون کا کہنا ہے کہ ’عید کا سیزن تاجروں کے کاروبارو کا وقت ہوتا ہے جس کا وہ پورا سال انتظار کرتے ہیں اور سامان لاکر رکھتے ہیں۔ مگر دن بدن بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث کاروبار قائم رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔‘

’مارکیٹیں مکمل طور پر بند ہیں اور ہُو کا عالم ہے، شکل اور زبان کی بنیادوں پر لوگوں کو مارا جارہا ہے جن کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔‘

واضح رہے کہ حالیہ واقعات اس وقت پیش آئے ہیں جبکہ حکومت اور ایم کیو ایم کے مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہونے کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے حکومت میں واپسی کے اشارہ دیئے جا رہے تھے۔

پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کے مختلف واقعات لیاری، شیر شاہ، گارڈن، سائٹ، بلدیہ، سعیدآباد، ماری پور، اور مواچھ گوٹھ کے علاقوں میں پیش آئے۔

جمعرات کی صبح ہلاک ہونے والے دو نوجوانوں عمران اور جاوید کی لاشیں سول ہسپتال لائی گئیں جہاں پوسٹ مارٹم میں تاخیر کے سبب ورثاء اور لاشوں کے ہمراہ آنے والے لوگوں نے مشتعل ہوکر میڈیکو لیگل افسر کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی۔

فائرنگ کے باعث متاثرہ علاقوں میں کاروبار معطل اور ٹرانسپورٹ بند ہوگئی جبکہ لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گزشتہ چوبیس گھنٹے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیس ہوگئی ہے

یاد رہے کہ بدھ کو کراچی کےعلاقے کھارادر میں موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے افطار کے وقت فائرنگ کر کے پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی واجا احمد کریم داد بلوچ اور ان کے ایک ساتھی کو ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعے کے بارے میں علاقے کے تھانہ جیکسن کے انچارج اسلم جوئیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی واجا کریم داد کا روزانہ اس جگہ آنا معمول تھا اور وہ عموماً مقامی وقت کے مطابق پونے سات بجے یہاں آ کر بیٹھتے تھے اور افطار یہیں کرتے تھے‘۔

واجا کریم داد کا ایک ساتھی بھی اسی حملے میں ہلاک ہوا۔

تاہم کئی عینی شاہدین اور ایمبولینس کے عملے اور ہسپتال کے ذرائع کے مطابق کھارادر میں ہونے والے اس حملے میں واجا کریم داد سمیت چار افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔

اس واقعے کے بعد کھارادر ہی کے ایک علاقے ہوزری مارکیٹ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک اور شخص ہلاک ہوگیا۔اس واقعے کے بعد علاقے میں مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی بھی کی۔

بدھ کو افطار سے پہلے بھی کراچی کے علاقے بھیم پورہ اور نیپیئر کے قریب آنکھوں کے ایک ہسپتال کے سامنے دستی بم اور کریکر پھینکے گئے اور راکٹ داغے گئے اور علاقے میں دو مسلح گروہوں کے درمیاں شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

اسی دوران ایک کمپاؤنڈ میں راکٹ گرنے سے ایک بچے سمیت ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک ہوگئے۔

بدھ کی صبح شہر کے مختلف علاقوں سے چھ نوجوانوں کی بوری بند لاشیں ملیں۔ ان سب کا تعلق لیاری سے تھا اور انہیں اغواء کر کے قتل کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں