سیلاب کے بعد کسانوں کے لیے دوہری مشکل

سیلاب تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نچلے درجے کے سیلاب کی وجہ پانی نے دیہاتوں کو گھیر لیا ہے

پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع قصور میں واقع دریائے ستلج میں نچلے درجے کے سیلابی ریلے نے زیر کاشت اراضی اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

گنڈا سنگھ کے مقام پر گزرنے والے اس سیلابی ریلے کے بعد تیار فصلوں کی مارکیٹ تک رسائی بھی مشکل ہو گئی ہے۔

دریائے ستلج سے گزرنے والے سیلابی ریلے کی وجہ سے مکانات اورمویشی تو محفوظ رہے لیکن فصلیں بُری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ فصلیں تباہ ہونے سے وہ برباد ہوگئے ہیں۔

بھارت کی طرف سے پانی چھوڑنے کی وجہ سے دریائے ستلج سے پنتیالیس ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزرا جس سے خشک دریا میں نچلے درجے کا سیلاب آگیا تاہم اب پانی کی سطح کم ہورہی ہے۔

مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ پہلے بارشوں اور اب سیلابی پانی کی وجہ سے ان کی زیر کاشت اراضی بڑی طرح متاثر ہوئی ہے۔ دیہات کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔

اس سیلابی ریلے کی وجہ سب سے زیادہ نقصان مکئی کی فصل کو ہوا ہے۔

سیلابی ریلے سے متاثر ہونے والے ایک کسان حاجی لیاقت کا کہنا ہے کہ سیلاب کا پانی تو ان کے گھروں میں تو داخل نہیں ہوا لیکن سیلابی ریلے نے ان کی فصلیں کو اجاڑہ کر رکھ دیا ہے۔ ’فصلیں متاثر ہونے سے کسان کا سب کچھ لٹ گیا ہے اور ہمارے پاس کچھ نہیں بچا۔‘

دریائے ستلج میں سیلاب کے پانی نے دیہاتوں کو گھیر لیا ہے اور اب ان کسانوں کو اپنی فصل مارکیٹ تک پہنچانے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔

پہلے دریا خشک ہونے کے باعث یہ لوگ باآسانی فصل کو مارکیٹ تک لے جاتے تھے لیکن اب انہیں مارکیٹ تک پہنچنے کے لیے کشتی کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے اور اس مقصد کے لیے کشتی بھی کرائے پر حاصل کی جاتی ہیں۔

کسان حاجی لیاقت کا کہنا ہے کہ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچانے کے لیے انہیں دو سو روپے فی چکر کشتی کا کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے جس کے باعث بچت نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک چکر میں دس سے زیادہ بوریاں نہیں لائی جاسکتیں۔

’ایک ٹرالی کو بھرنے میں دو دن لگ جاتے ہیں کیونکہ ایک ٹرالی میں دو سو بوریوں کی گنجائش ہوتی ہے۔‘

کسانوں کے بقول کشتی کے کرایہ کی ادائیگی ایک عام کسان کے بس کی بات نہیں ہے اور کسانوں کی اکثریت سیلابی ریلے کی وجہ سے اضافی اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔

اسی بارے میں