سوات میں قبروں کی بےحرمتی

قبریں
Image caption صرف سیمنٹ کی بنی ہوئی پکی قبروں کی بےحرمتی کی ہے جبکہ کچی قبریں اور زیارت محفوظ ہے

صوبہ خیبر پختونخوا کے دہشت گردی سے متاثرہ ضلع سوات میں نامعلوم افراد نے ایک قبرستان میں قبروں کی بے حرمتی کی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی فرقوں کے اختلاف کی بنیاد پر ہوسکتی ہے تاہم اس بارے میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

پشاور میں ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا کہ پولیس کے مطابق ضلع سوات کی تحصیل مٹہ میں آبادی کے قریب چوپڑیال تھانے کی حدود میں نیم شب کے وقت نامعلوم افراد نے قبروں کی توڑ پھوڑ شروع کر دی تھی۔

ضلعی پولیس افسر دلاور خان بنگش نے بی بی سی کو بتایا کہ قریب گھروں میں رہائشی جاگے اور انھوں نے چور سمجھ کر ہوائی فائرنگ کی جس پر حملہ آور فرار ہوگئے۔

انھوں نے کہا کہ اس قبرستان میں ایک پیر کی زیارت کے علاوہ کچی پکی قبریں ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حملہ آوروں نے صرف سیمنٹ کی بنی ہوئی پکی قبروں کی بےحرمتی کی ہے جبکہ کچی قبریں اور زیارت محفوظ ہے۔

ڈی پی او کے مطابق حملہ آورں نے آٹھ دس پکی قبروں کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ بعض مقامی لوگوں کے مطابق بےحرمتی کی ہوئی قبروں کی تعداد زیادہ تھی۔

دلاور خان کے مطابق ابتدائی تفتیش سے یہی معلوم ہوا ہے کہ یہ کارروائی فرقوں کے اختلاف کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ اس کارروائی کے بعد فوجی حکام نے بھی قبروں کا معائنہ کیا ہے لیکن کوئی ایسے شواہد اب تک نہیں ملے جس میں یہ معلوم ہو سکے کہ اس کارروائی میں مشتبہ طالبان ملوث ہیں۔

اس علاقے میں طالبان کے دور میں شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ مذہبی رہنما پیر سمیع اللہ کو سنہ دو ہزار آٹھ میں سوات میں طالبان کے عروج کے دور میں قتل کر دیا گیا تھا اور ان کی لاش کی بے حرمتی کرنے کے بعد لاش کو درخت سے لٹکا دیا گیا تھا۔ پیر سمیع اللہ طالبان کے مخالف اور حکومت کے حمایتی تھے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ اور پااکستان کے قبائلی علاقوں میں اس سے پہلے بھی زیارتوں پر حملے کیے جا چکے ہیں جن میں پشاور میں رحمان بابا کے مزار پر حملہ نمایاں ہے۔ معروف شاعر میر حمزہ شنواری کی آخری آرام گاہ پر بھی حملے ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں