مسجد میں دھماکہ، سینتالیس ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں بڑی تعداد میں زخمی لائے گئے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود کی مسجد المدینہ میں جمعہ کی نماز کے وقت ہونے والے بم حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سینتالیس ہو گئی ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ فرض نماز کی ادائیگی کے بعد لوگ سنتیں ادا کر رہے تھے کہ امام مسجد سے کوئی چار یا پانچ صفیں پیچھے مسجد کے درمیان میں ایک شعلہ اٹھا اور دھماکہ ہوگیا۔ دھماکے سے موقع پر بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہو گئے اور جگہ جگہ لاشیں بکھری پڑی تھیں۔

جمرود کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ خالد ممتاز کنڈی کے مطابق ابتدائی تفتیش سے ایسا ہی لگتا ہے کہ یہ ایک خود کش دھماکہ تھا کیونکہ مسجد کی دیوار پر چھروں اور دیگر شواہد یہی ظاہر کر رہے ہیں تاہم اس بارے میں مذید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں بڑی تعداد میں زخمی لائے گئے جنھیں طبی امداد فراہم کی گئی۔

ایک عینی شاہد ظفر جن کے کپڑے خون سے لت پت تھے اور ان کی سانسیں اکھڑی ہوئی تھیں بی بی سی کو بتایا کہ ’دھماکے کے بعد ہر طرف دھواں پھیل گیا تھا کسی کو کچھ نظر نہیں آرہا تھا بعد میں معلوم ہوا کہ مسجد کی دیور بھی گر گئی ہے۔‘

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ یہ علاقے کی ایک بڑی مسجد ہے اور اس میں ایک مدرسہ بھی ہے جہاں بچے تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دھماکے کے وقت مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے کوئی چار سو تک افراد آئے تھے۔

دھماکے کے بعد پشاور کے جمرود روڈ پر بڑی تعداد میں گاڑیاں اور ایمبولینسز زخمیوں کو ہسپتالوں کو پہنچاتی نظر آئیں۔ پشاور کے ہسپتالوں میں ایمرجسنی نافذ کر دی گئی ہے لیکن زخمیوں کو لانے والے ہسپتالوں میں سہولیات کے فقدان اور عملے کی عدم توجہی کی شکایات کرتے رہے۔

ایک زخمی کے بھائی نے بتایا کہ وہ جب زحمیوں کو لائے تو ہسپتال میں ڈاکٹر موجود نہیں تھے اور زخمیوں کو دیگر ہسپتالوں کو منتقل کرتے رہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر قریب ترین ہسپتال حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں موقع پر امداد فراہم کر دی جاتی تو بیشتر افراد کی جانیں بچ سکتی تھیں۔

اسی بارے میں