فاٹا مساجد کو کب کب نشانہ بنایا گیا؟

Image caption مارچ دو ہزار نو میں طورخم شاہراہ پر خاصہ داروں کی چوکی کے قریب مسجد میں ہوئے خودکش حملے میں پچاس نمازی ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان میں جاری پرتشدد کارروائیوں میں اسلامی اعتبار سے سب سے زیادہ مقدس سمجھے جانے والی عبادت گاہ یعنی مسجد کو بھی بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ قبائلی علاقے خیبر اجنسی کی تحصل جمرود میں آج کا حملہ یہاں اس علاقے میں ایسا دوسرا حملہ ہے۔

افغانستان کے ساتھ سرحد سے جڑے قبائلی علاقوں میں اس وقت سب سے زیادہ امن عامہ کی صورتحال کے اعتبار سے غیرمستحکم علاقہ خیبر کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ آئے روز یہاں ناصرف نیٹو ٹرکوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ مختلف شدت پسند تنظیموں کی آپس کی لڑائی اسے مزید خطرناک بناتی ہے۔ اکثر سرکاری سکولوں کو بموں سے اڑانے اور جاسوسی کے الزام میں ہلاک کیے جانے والوں کی لاشیں ملنا بھی ایک معمول ہے۔ دیگر قبائلی علاقوں میں طرح سکیورٹی فورسز بھی یہاں اکثر شدت پسندوں کے زیر عتاب رہی ہیں۔

آج خودکش حملہ جمرود کے علاقے غونڈئی میں ہوا لیکن اس سے قبل مارچ دو ہزار نو میں پشاور طورخم شاہراہ پر خاصہ داروں کی چوکی کے قریب مسجد میں ہوئے خودکش حملے میں پچاس سے زائد نمازی ہلاک ہوگئے تھے۔ جمعہ ہونے کی وجہ سے اس روز بھی مسجد معمول سے زیادہ بھری ہوئی تھی۔

سال دو ہزار دس کے شروع میں ہی خیبر ایجنسی کے اکاخیل علاقے میں ایک مسجد کے قریب خودکش حملے میں لشکر اسلام نامی تنظیم کے ایک کمانڈر سمیت تیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی سال جولائی میں خیبر کے لنڈی کوتل علاقے میں ایک دھماکے سے ایک مسجد کو نقصان پہنچا تھا۔

ستمبر دو ہزار آٹھ میں مشتبہ طالبان نے مسجد عزیزیا مساجد کو محض خیبر ایجنسی میں ہی نشانہ نہیں بنایا گیا ہے بلکہ اس کے قریب ہی درہ آدم خیل میں بھی جمعے کے ہی روز چھ نومبر دو ہزار دس کو ایک مسجد میں حملے سے ستر سے زائد لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا اور مہمند ایجنسی کے ماموند علاقے کی مساجد بھی خودکش حملے دیکھ چکی ہیں۔

دو ہزار دو سے اب تک اخباری خبروں کے ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں ساٹھ سے زائد مساجد اور امام بارگاہوں پر میں حملے ہوچکے ہیں جن میں ہزاروں افراد اپنی جانیں کھو بیٹھے۔

ان میں سے اکثر مواقع پر کسی تنظیم یا گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں