کرم میں مقاصد حاصل کر لیے: فوج

Image caption ٹل پارہ چنار شاہراہ کو محفوظ بنانے کے لیے چھوٹے چھوٹے ناکے بھی قائم کئے جا رہے ہیں جہاں دن رات سکیورٹی اہلکار تعینات رہیں گے۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف شروع کئے گئے آپریشن میں تمام مطلوبہ مقاصد حاصل کر لئے گئے ہیں جبکہ علاقے میں چار سال سے بند سڑکوں کو بھی مرحلہ وار طریقے سے جلد کھول دیا جائے گا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سنٹرل کرم ایجنسی کے علاقے میں تمام اہم مقاصد حاصل کر کے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن ’ کوہ سفید‘ مکمل کر لیا ہے۔

بیان کے مطابق یہ آپریشن مقامی لوگوں اور پولیٹکل انتظامیہ کے پر زور مطالبے پر شروع کیا گیا تھا تا کہ علاقے میں موجود خودکش حملہ آوروں، فرقہ وارانہ تشدد اور اغواء برائے تاوان میں ملوث افراد کا خاتمہ کیا جا سکے۔

ایک اعلی فوجی اہلکار نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ آپریشن کوہ سفید بنیادی طورپر علاقے میں تین چار برسوں سے بند سڑکوں اور شاہراہوں کو کھولنے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسی میں بہت جلد تمام بند سڑکیں مرحلہ وار طریقے سے کھول دی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ٹل پارہ چنار شاہراہ کو محفوظ بنانے کے لیے چھوٹے چھوٹے ناکے بھی قائم کئے جا رہے ہیں جہاں دن رات سکیورٹی اہلکار تعینات رہیں گے۔

ادھر جمعرات کو فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی کرم ایجنسی کا دورہ کیا اور منڈان اور مانتاؤ کے علاقوں میں آپریشن میں حصہ لینے والے فوجی جوانوں اور افسران سے ملاقات کی۔

جنرل کیانی نے اس موقع پر کرم ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کی بھی تعریف کی جس کی کوششوں سے تیرہ ہزار بے گھر خاندانوں کو کیمپوں میں پناہ دی گئی۔

خیال رہے کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل سکیورٹی فورسز نے وسطی کرم ایجنسی کے علاقوں ذی مُشت، علی شیرزئی اور ماسوزئی میں عسکری تنظیموں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ سکیورٹی فورسز کا دعوی ہے کہ تمام علاقے شدت پسندوں سے صاف کر دیئے گئے ہیں تاہم مقامی لوگ اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کرم ایجنسی کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی واحد اہم شاہراہ پچھلے تین برسوں سے عام ٹریفک کے لیے بند ہے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو کئی قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔

علاقے میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ پارہ چنار اور دیگر علاقوں سے بے دخل کئے گئے خاندان بھی ہیں جو بدستور دیگر علاقوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔