پانچ برس پہلے اور بعد!

کراچی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک سروے کے مطابق کراچی اس وقت دنیا میں تیسرا بڑا غیر محفوظ شہر ہے۔

آج دن بھر میں نے پرانے اخبارات کی ورق گردانی کی۔بیسیوں دلچسپ خبریں نگاہ سے گزریں۔ چودہ اکتوبر دو ہزار چھ کے اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبر آپ بھی سنیے۔

کراچی ( سٹاف رپورٹر) دنیا میں سب سے زیادہ سٹریٹ کرائم کراچی میں ہوتے ہیں۔روزانہ لوٹ مار کی لگ بھگ ڈیڑھ ہزار وارداتیں ہوتی ہیں۔یہ اعداد و شمار سندھ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف نثار احمد کھوڑو نے ایک اخباری بیان میں بتائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوجی حکومت اور سندھ میں اس حکومت کی کٹھ پتلیاں انکے سروے سے شائد اتفاق نہ کریں لیکن زیادہ تر متاثرین قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی کے سبب پولیس سے رجوع کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔اور جو لوگ شکایات درج کرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں انہیں ایف آئی آر لکھے بغیر لوٹا دیا جاتا ہے۔

مسٹر کھوڑو نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ مسلم لیگ ق سندھ میں حکومت بچانے کے لیے اپنی اتحادی ایک نسلی جماعت کی یرغمال ہے۔کراچی کے تھانے اس نسلی جماعت کے دفاتر میں بدل چکے ہیں جہاں تھانہ انچارجوں کی تقرریاں نسلی جماعت سے وفاداری کی مرہونِ منت ہیں۔جبکہ وزیرِ اعلٰی ارباب غلام رحیم امن و امان کی ابتر صورتحال میں ایک خاموش مجرم کا کردار نبھا رہے ہیں۔وزیرِ اعلی کو محکمہ داخلہ میں دخل دینے سے روک دیا گیا ہے اور وہ اپنا منصب بچانے کے لیے جی حضوری میں لگے ہوئے ہیں۔

نثار کھوڑو نے الزام لگایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں جرائم کے جعلی اعداد و شمار پیش کررہی ہیں۔حکام کا دعوٰی ہے کہ کراچی میں روزانہ چالیس سے پچاس موبائل فون چھینے یا چوری کیے جارہے ہیں جبکہ اصل تعداد پانچ سو سے چھ سو کے درمیان ہے۔اورایک اور سروے کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران کراچی میں لگ بھگ ساٹھ ہزار موبائل فون چھینے یا چوری کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بازاروں اور مارکیٹوں میں روزانہ تقریباً سو پرس ، تیس سے چالیس گاڑیاں اور دو درجن موٹر سائیکلیں اسلحے کے زور پر چھن رہی ہیں اور حکام یہ بتانے میں ناکام ہیں کہ یہ گاڑیاں کہاں جاتی ہیں اور ایک بھی مجرم پکڑا کیوں نہیں جاتا۔

نثار کھوڑو نے دعوٰی کیا کہ قابل، تجربہ کار اور ایمان دار پولیس افسروں کو کھڈے لائن لگایا جارہا ہے اور مجرموں کو سیاسی وفاداریوں کی بناء پر تھانوں میں متعین کیا جارہا ہے۔

چودہ اکتوبر دو ہزار چھ کو شائع ہونے والی یہ خبر آج پانچ برس بعد پڑھنے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔

اس عرصے میں فوجی حکومت اور اسکی کٹھ پتلیوں کی جگہ سیاسی حکومت اور اسکی کٹھ پتلیاں آ گئیں۔سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر نثار کھوڑو اسی اسمبلی کے سپیکر بن گئے۔ارباب غلام رحیم کی جگہ قائم علی شاہ وزیرِ اعلی ہوگئے۔وہ نسلی جماعت جو مسلم لیگ ق کے ساتھ تھی پیپلز پارٹی کی اتحادی ہوگئی ۔ مسلم لیگ ق مرکز اور صوبے کی حکومت میں حصے دار ہوگئی۔اور کراچی میں ان پانچ برس کے دوران تقریباً پانچ ہزار لاشیں اور گرگئیں۔

پانچ برس پہلے کراچی دنیا کے دس غیر محفوظ ترین شہروں کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔لیکن ایک سروے یہ بھی کہتا ہے کہ کراچی اس وقت بوگوٹا اور کراکاس کے بعد دنیا میں تیسرا بڑا غیر محفوظ شہر ہے۔

لگتا ہے یہ سروے نثار کھوڑو کے علم میں نہیں ورنہ ان کا کوئی نا کوئی اخباری بیان ضرور آتا ۔لیکن کیسے آتا بھلا ؟ یہ کام تو قائد حزبِ اختلاف کا ہے ۔اسپیکر کا تو نہیں !!!

اسی بارے میں