سفارتی عملے کی نقل و حرکت، تنازعہ برقرار

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکہ نے نے اس پابندی کو جنیوا کنوینشن کی خلاف ورزی قرار دیا

امریکہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی عملے کی نقل و حرکت پر بظاہر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔

ایک تازہ واقعے میں اتوار کی شام چھ بجے کے لگ بھگ دو امریکی سفارت خانے کی گاڑیوں کو پشاور میں معمول کی چیکنگ کے لیے رکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن وہ نہیں رُکیں۔

سفری پابندیاں،’جلد حل نکل آئے گا

پاکستانی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی دو لینڈ کروزر گاڑیوں کو اتوار کو پونے چھے بجے کے وقت پشاور سے اسلام آباد جانے والی موٹروے پر پشاور ٹول پلازہ پر پولیس نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن گاڑی میں سوار افراد وہاں رکنے کے بجائے گاڑی بھگا کر لے گئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس دوران گاڑی ان پر چڑھانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔

پاکستانی پولیس کو شک ہے کہ گاڑیوں میں امریکی محکمہ دفاع کے چار اہلکار سوار تھے۔ ان مشتبہ گاڑیوں کے ڈرائیوروں نے پشاور میں امریکی قونصل خانے میں داخل ہوکر ہی دم لیا۔ اس سے قبل بھی اسی ٹول پلازہ پر امریکی سفارتی گاڑیوں کو روکا گیا تھا اور کئی گھنٹوں کی بات چیت کے بعد جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی عملے کی نقل حرکت پر سی آئی اے کے اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے واقعے کے بعد سے اختلافات چلے آ رہے ہیں۔ پاکستان نے اسلام آباد میں مقیم تمام ممالک کے سفارت خانوں کو کہیں روانگی سے قبل وزارت داخلہ سے این او سی لینے کا پاپند بنایا تھا۔ تاہم امریکہ وہ واحد ملک ہے جس نے اس نئی پابندی کے خلاف آواز اٹھائی اور اسے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیا۔

بعض اخباری اطلاعات کے مطابق اس بابت دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدہ طے پاگیا تھا جس کے تحت امریکیوں کو این او سی لینے کی ضرورت نہیں ہوگی لیکن وہ سفارتی شناخت کا کارڈ اپنے ہمراہ رکھیں گے۔ لیکن اس تازہ واقعے سے محسوس ہوتا ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آج پشاور میں کسی ناخوشگوار واقعے کے پیش آنے سے انکار کیا ہے۔

پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ برطانوی اور دیگر ممالک کے سفارت کار بغیر کسی چُوں چراں کے این او سی حاصل کرکے وفاقی دارالحکومت سے باہر سفر کر رہے ہیں لیکن امریکی ہی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

حکام کو شک ہے کہ اس اصرار کے پیچھے کچھ تو ہے جس کی امریکہ پردہ داری کر رہا ہے ورنہ گاڑی یا کاغذات چیک کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے تھا۔

اسی بارے میں