کراچی حالات کا شکار مریض بچے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہڑتالوں اور بدامنی سے پچتہر فیصد بچے مقررہ دن کو سینٹروں تک نہیں پہنچ پاتے، ڈاکٹر سرفراز جعفری

چودہ سالہ افشاں کوٹڑی کی رہائشی ہیں ان کی زندگی ہر پندرہ روز بعد نئے خون کی محتاج ہے، جو انہیں کراچی میں ایک نجی تھیلسمیا سینٹر سے ملتا ہے، مگر یہ تبھی ممکن ہوتا ہے جب شہر کے حالات پر امن ہوں اور وہ یہاں پہنچ پائیں۔ منگل کو بھی انہیں خون کی منتقلی ہونی تھی مگر ہڑتال کے باعث یہ ممکن نہیں ہوسکا۔

افشاں کی بڑی بہن نے بی بی سی کو بتایا ’ایسی صورتحال میں ڈاکٹروں کو گزارش کرنا پڑتی ہے کہ کوئی دوسری تاریخ دیں یا وقت تبدیل کریں ہم نہیں آسکتے لیکن اگر زیادہ ایمرجنسی ہو تو ایمبولینس میں جاتے ہیں جو ڈھائی سے تین ہزار روپے لیتی ہے جبکہ عام دنوں میں وہ بس کے ذریعے ایک ہزار روپے میں پہنچ جاتے ہیں۔‘

افشاں کے والد موذن ہیں اور ان کی کمائی کا کوئی بڑا ذریعہ نہیں، افشان کی بڑی بہن کا کہنا ہے کہ حالات خراب کرنے والے یہ نہیں سوچتے کہ ان کے اس عمل سے کتنے لوگوں کو ذہنی اور جسمانی تکلیف پہنچتی ہے، اس مہینے میں وہ تین بار تاریخ تبدیل کراچکے ہیں۔

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تھیلسمیا سے متاثرہ کے بچوں کے بڑے مراکز قائم ہیں جہاں انہیں مفت خون فراہم کیا جاتا ہے اس لیے کراچی کے ساتھ سندھ کے دیگر علاقوں سے بھی مریضوں کا رخ ان سینٹروں کی جانب ہوتا ہے۔

پاکستان تھیلسمیا فیڈریشن کے وائس چیئرمین اور خیراتی ادارے حسینی بلڈ بینک کے اہلکار ڈاکٹر سرفراز جعفری کا کہنا ہے کہ ہڑتالوں اور بدامنی سے پچھہتر فیصد بچے مقررہ دن کو سینٹروں تک نہیں پہنچ پاتے۔

’لیاری میں زیادہ بچے تھیلسمیا میں مبتلا ہیں مگر وہاں کئی دنوں سے حالات خراب ہیں جس وجہ سے بچے اپنے مقررہ وقت پر نہیں پہنچتے، جب پوچھتے ہیں کیا ہوا تو بتاتے ہیں کہ ہمارے گھر کے پاس تو فائرنگ تھی جس کی وجہ سے نکل نہیں پائے، تین چار روز کے بعد جب وہ ہمارے پاس آتے ہیں تو ان کا خون اور بھی کم ہوچکا ہوتا ہے اور پیچدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔‘

ڈاکٹر جعفری کے مطابق جب شہر بند ہو تو وہ بھی نہیں نکل پاتے فائرنگ ہو رہی ہوتی ہے اس صورتحال میں اکثر عملہ بھی نہیں آتا کیونکہ ٹرانسپورٹ موجود نہیں ہوتی ہے۔

غیر سرکاری رفاعی ادارے فاطمید فاؤنڈیشن کی جانب سے بھی روزانہ ڈیڑھ سو مریضوں کو خون کی منتقلی کی جاتی ہے۔ فاطمید بلڈ بینک کے ڈاکٹر عزیز کا کہنا ہے کہ خون کی منتقلی کا دارو مدار خون عطیے کرنے والوں کی آمد پر منحصر ہوتا ہے، ان کے سینٹر میں اس وقت بھی تھیلیسمیا کے کئی مریض موجود ہیں۔

’حالات خراب ہونے کے باعث لوگ خون کا عطیہ دینے نہیں آسکتے، ماہ رمضان میں ہمارے کیمپ بھی کم لگتے ہیں مگر مریضوں کے رشتے دار ساتھ آ کر خون دیتے ہیں جس سے ان کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے، مگر تین روز سے جو حالات ہیں اس کے باعث لوگ خوف میں گھروں سے نہیں نکل رہے ہیں۔‘

تھیلیسمیا کے علاوہ گردوں، امراض قلب اور بچوں کے امراض کے بڑے سرکاری ہسپتال کراچی میں موجود ہیں، جہاں سندھ بھر سے غریب مریض علاج معالجے کے لیے آتے ہیں مگر شہر میں حالات کی خراب کے باعث وہ یہاں نہیں پہنچ پاتے اور گھروں میں تڑپتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں