بازار کھل گئے مگر خریدار موجود نہیں

کراچی میں تشدد کا شکار ہونے والوں کے لواحقین تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پولیس حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تاجروں اور صنعتکاروں کو مکمل تحفظ فراہم کریں

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے سوگ منانے پر تاجروں کا شکریہ ادا کیا اور انہیں اپیل کی کہ وہ اپنا کاروبار کھول لیں۔ جس کے بعد بازار تو کھل گئے مگر خریدار موجود نہیں ہیں، تاجروں نے آج رات بھر کاروبار کھلا رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب پولیس یا رینجرز کی کسی متاثرہ علاقے میں کوئی کارروائی نظر نہیں آئی مگر وفاقی وزیر رحمان ملک نے بتایا کہ یہ آپریشن اچانک کیے جائیں گے۔

’سرجیکل آپریشن کا دارو مدار خفیہ معلومات پر ہوتا ہے، اس کارروائی کا مزہ یہ ہوتا ہے کہ یہ اس گلی یا اس گھر کو پتہ ہوتا ہے کہ وہاں کارروائی ہوئی ہے۔‘

رحمان ملک نے بتایا کہ پیر سے منگل تک پولیس نے دس مبینہ ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کیا ہے انہوں نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ان ملزمان کے کھلے چہروں کے ساتھ عدالتوں میں پیش کیا جائے ان پر کپڑا نہ ڈالا جائے۔ تاکہ ان کی بے عزتی ہو اور ان کے پیچھے جو چاہنے والے ہیں جو ان کی مدد کرتے ہیں انہیں بھی پتہ چلے کہ یہ گرفتار کیے گئے ہیں۔

اس سے پہلے موصول ہونے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ سندھ حکومت نے بھتہ خوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعلیٰ قائم علی شاہ اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی مشترکہ صدارت میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں صوبہ سندھ باالخصوص کراچی میں امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں پولیس حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ تاجروں اور صنعتکاروں کو مکمل تحفظ فراہم کریں۔

’اجلاس میں شرپسندوں اور بھتہ خوروں کو وارننگ دی گئی کہ وہ فوری کراچی چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں بصورت دیگر ان کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی جائے گی اور یہ کارروائی عبرتناک ثابت ہوگی۔‘

اجلاس میں کالعدم تنظیموں، جن میں لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ وغیرہ شامل ہیں، کو وارننگ دی گئی کہ وہ اپنی ہر طرح کی سرگرمیوں کو فوری طور پر ختم اور اپنے دفاتر بند کردیں، بصورت دیگر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فیصلہ بھی کیا گیا کہ بین الصوبائی روٹس پر چلنے والی اور دیگر صوبوں سے کراچی آنے والی بسوں کی چیکنگ کی جائے گی جو کہ مختلف طریقوں سے اسلحہ، بارود، منشیات اور دیگر ممنوع اشیاء کراچی لاتے ہیں۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ کراچی میں داخلے کے راستوں کو کم کیا جا رہا ہے، تاکہ مجرموں، شرپسندوں اور ملک دشمن قوتوں کی سرگرمیوں کو محدود کیا جائے۔

اسی بارے میں