بھتہ خوروں کےخلاف کارروائی کا فیصلہ

کراچی، رینجرز تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی کے متاثرہ علاقوں میں سرجیکل آپریشن پولیس اور رینجرز کی مدد سے کیا جائے گا۔

سندھ حکومت نے بھتہ خوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو امن امان کی صورتحال خراب کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ قائم علی شاہ اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی مشترکہ صدارت میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں صوبہ سندھ باالخصوص کراچی میں امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں پولیس حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ تاجروں اور صنعتکاروں کو مکمل تحفظ فراہم کریں۔

’اجلاس میں شرپسندوں اور بھتہ خوروں کو وارننگ دی گئی کہ وہ فوری کراچی چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں بصورت دیگر ان کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی جائے گی اور یہ کارروائی عبرتناک ثابت ہوگی۔‘

اجلاس میں کالعدم تنظیموں، جن میں لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ وغیرہ شامل ہیں، کو وارننگ دی گئی کہ وہ اپنی ہر طرح کی سرگرمیوں کو فوری طور پر ختم اور اپنے دفاتر بند کردیں، بصورت دیگر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فیصلہ بھی کیا گیا کہ بین الصوبائی روٹس پر چلنے والی اور دیگر صوبوں سے کراچی آنے والی بسوں کی چیکنگ کی جائے گی جو کہ مختلف طریقوں سے اسلحہ، بارود، منشیات اور دیگر ممنوع اشیاء کراچی لاتے ہیں۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ کراچی میں داخلے کے راستوں کو کم کیا جا رہا ہے، تاکہ مجرموں، شرپسندوں اور ملک دشمن قوتوں کی سرگرمیوں کو محدود کیا جائے ۔

اس سے قبل کراچی میں پرتشدد واقعات کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ منگل کے روز سوگ اور مذمت کا دن منا رہی ہے جس کے باعث کراچی میں کاروبارِ زندگی معطل ہے۔

دوسری جانب شہر میں جاری پر تشدد واقعات کا سلسلہ آج بھی جاری رہا مگر اس میں کمی آئی ہے۔

پولیس کے مطابق شہر میں چھ افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے اور یہ واقعات پی آئی بی کالونی، پیر آباد اور ملیر سٹی میں پیش آئے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے تجاوز کر گئی ہے۔

گلستان جوہر کے علاقے میں آج صورتحال کشیدہ رہی جہاں ٹائروں کو نذر آتش کیا گیا اور فائرنگ کی گئی۔

دوسری جانب پولیس نے نشانہ وار قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں چار ملزمان کو ناظم آباد سے گرفتار کیا ہے۔ ایس پی وسطی آصف اعجاز نے میڈیا کو بتایا کہ ان ملزمان نے ایک ماہ میں تیرہ افراد کو اغوا کر کے قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے جو واقعات لیاری اور آس پاس کے علاقوں میں پیش آئے ہیں۔

ملزمان کی شناخت شاہنواز، نعیم، مصطفیٰ اور رفیق کے نام سے کی گئی ہے بعد میں ملزمان کا انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ریمانڈ لیا گیا۔

حیدرآباد سے نامہ نگار علی حسن کے مطابق سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں کاروبار تقریباً بند رہا۔ تاہم سندھی آبادی کے علاقوں میں اس کا اثر نظر نہیں آیا۔ اس کے علاوہ میرپور خاص اور سکھر میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ بعض دیگر علاقوں میں کاروبار جزوی طور پر بند رہا۔

متحدہ کے یوم سوگ کی مہاجر رابطہ کونسل، سنی تحریک اور جامعہ بنوریہ نے حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ تاجر اتحاد، ٹرانسپورٹ اتحاد اور پیٹرولیم ڈیلرز ایسو سی ایشن نے آج اپنا کاروبار بند رکھنے کے اعلانات کیے تھے۔

شہر کی بدامنی اور احتجاج سے شہر کے طلبہ اور طالبات بھی متاثر ہو رہے ہیں، یوگ سوگ کے موقع پر جامعہ کراچی نے اپنے امتحانی پرچے اور تعلیمی بورڈ نے پریکیٹل ملتوی کردیے ہیں، جبکہ شہر میں نجی تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے پیر کی شام ایک اخباری کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا اور عوام، تاجر تنظیموں اور ٹرانسپورٹرز سے اپیل کی کہ وہ آج اپنا کاروبار بند رکھیں۔

کراچی میں بازار بند اور ٹرانسورٹ معطل ہے جبکہ پٹرول پمپ بھی قناتیں لگا کر بند کر دیے گئے ہیں۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی میں نہ صرف شہر کے اندر مختلف علاقوں کے لیے چلنے والی گاڑیاں بند ہیں بلکہ کراچی سے اندرونِ سندھ جانے والی ٹرانسپورٹ بھی معطل ہے۔

’کراچی:سرجیکل آپریشن کا فیصلہ‘

ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی میں بدامنی کا ذمہ دار صوبائی حکومت کو قرار دیا۔

’دہشت گردوں ، قاتلوں اور بھتہ خور مافیہ کے خلاف محض اس لیے کارروائی سے گریز کیا جاتا رہا کہ ان جرائم پیشہ افراد کو پیپلز پارٹی کے بعض وزراء کی مکمل سرپرستی حاصل ہے‘

Image caption وزیر اعظم کراچی کے معصوم لوگوں کے خون سے دامن بچانے کے لیے استعفی دے دیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ایم کیو ایم نے مہاجرین کی نسل کُشی کے بدترین عمل اور قتل و غارت گری کے خلاف منگل کے روز ملک بھر میں پرامن یومِ سوگ اور مذمت منائے گی۔

اسی دوران متحدہ قومی مومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے لندن سے جاری کردہ ایک بیان میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کراچی میں قیام امن میں ناکامی پر مستعفی ہوجائیں۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ وہ متعدد بار وزیراعظم کو کراچی میں امن خراب کرنے والے عناصر کے بارے میں آگاہ کر چکے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا کہ وہ کراچی میں معصوم شہریوں کا قتل وغارت بند کروائیں۔

الطاف حسین نے وزیر اعظم گیلانی کو مشورہ دیا کہ معصوم لوگوں کے خون سے دامن بچانے کے لیے استعفٰی دے دیں۔

سندھ کے سینئر وزیر ذوالفقار مرزا نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو کراچی میں امن کی بحالی کے لیے آئین کے مطابق فوج کو بلایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے تو حکومت اپنے وسائل کے ذریعے کراچی میں کشیدگی دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ ’اگر صورتِ حال ٹھیک نہیں ہوتی پھر فوج کو بلانے میں کوئی حرج نہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ امن قائم کرنے کے لئے پولیس اور رینجرز تو کام کر رہی ہے تاہم حکومت نے اب ایف سی کو متحرک کیا ہے۔

’حکومت غور کر رہی ہے کہ ایف سی کو مکمل اختیارات دیے جائیں تاکہ امن و امان بحال کر سکیں۔‘

پیر کی شام سندھ کابینہ کے اجلاس میں کراچی کے متاثرہ علاقوں میں ایک مرتبہ پھر سرجیکل آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ آپریشن پولیس اور رینجرز کی مدد سے کیا جائے گا اور اس حوالے سے حکومت کوئی دباؤ برداشت نہیں کرے گی۔

ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کی پریس کانفرنس کا جواب دیتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ بوری بند لاشیں پیپلز پارٹی کا کلچر نہیں اور نہ ہی ان کی جماعت بھتہ، فطرہ یا کھالیں جمع کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سے مفاہمت کے دروازہ آج بھی کھلے ہوئے ہیں اور حکومت ایم کیو ایم کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔

ٹارگٹ کلنگز میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اب تک ایک سو ساٹھ ٹارگٹ کلر گرفتار کیے گئے ہیں، جن سے ملٹری انٹلی جنس، آئی ایس آئی، پولیس اور رینجرز پر مشتمل ٹیم پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ امن کی بحالی کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں اور اس حوالے سے وفاقی حکومت ہر مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

اسی بارے میں