’کراچی کا مسئلہ نیا نہیں ہے‘

کراچی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سندھ حکومت نے فوج کو کراچی میں طلب کرنے کا مطالبہ رد کر دیا ہے

حکومت نے ایک مرتبہ پھر کراچی میں فوج کی تعیناتی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اس ساحلی شہر کے نو علاقوں میں امن خراب کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

کابینہ نے کراچی میں امن و امان کے حوالے سے سندھ حکومت کی کوششوں کی توثیق بھی کر دی ہے۔

یہ فیصلے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں وفاقی کابینہ نے بدھ کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر اعظم نے کابینہ کو کراچی میں اپنی ملاقاتوں اور مشاورت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

کابینہ کے فیصلوں سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم نے کابینہ سے خطاب میں کہا کہ کراچی کا مسئلہ نیا نہیں اور نہ ہی موجودہ حکومت کے دور میں پیدا ہوا ہے۔ ان کا موقف تھا کہ یہ کئی دہائیوں کی خرابی ہے جو اب ایک بڑا مسلہ بن کر اب سامنے آئی ہے۔ کابینہ نے بحالی امن کے لیے سندھ حکومت کی کوششوں کی توثیق کی اور سندھ حکومت اور سکیورٹی فورسز کی نشان دہی پر ٹارگٹڈ یعنی ہدف تلاش کرکے اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ کابینہ کے کراچی کے نو علاقوں میں کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ان نو علاقوں کی آبادی پینتیس یا چالیس ہزار افراد ہے جن میں مٹھی بھر عناصر امن عامہ خراب کرنے میں ملوث ہیں۔ وزیر کا کہنا تھا کہ ان مٹھی بھر عناصر کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنے دیں گے۔ اس عللاقے میں سیاسی مفادات کو بلا تر رکھتے ہوئے کارروائی ہوگی،انہیں موقع پر گرفتار کرکے میڈیا کے سامنے لایا جائے گا، اور روزانہ کی کارروائی کے حوالے سے آپریشن روم قائم کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے کراچی میں فوج کی طلبی پر میڈیا میں بحث پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت سویلین اداروں کی مضبوطی کی بات کرتی ہے تو ایسے میں فوج کو ملک کے کونے کونے میں گھسیٹنا درست نہیں ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ رینجرز کی صلاحیت بڑھا کر اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی اہم مسئلہ ہے لہذا غیرسنجیدہ بیانات نہ دیے جایں تو بہتر ہے۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ جمتہ الوداع کو کراچی کے لئے یوم دعا کے طور پر منانے کا فیصلہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں