کراچی:آپریشن اصلی یا صرف’مفاہمت‘ کےلیے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کیا یہ آپریشن سیاسی مفاہمت کی بحالی تک محدود رہے گا؟

کراچی کی رونقیں بحال کرنے اور قتل و غارت کی روک تھام کے لیےمتاثرہ علاقوں میں ’سرجیکل آپریشن‘ کا فیصلہ کیاگیا ہے، اس سے پہلے بھی وفاقی وزیر رحمان ملک اس نوعیت کی کارروائیوں کے اعلانات کرتے رہے ہیں مگر اس بار ایک ہفتے میں سو سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔

ماضی کی طرح یہ ’ آپریشن‘ مفاہمت بحال ہونے تک محدود رہے گا یا اپنے مقصد کےحصول تک جاری رہے گا۔ یہ آپریشن سرجیکل ہے یا کاسمیٹک سرجری کی طرح محض ظاہری نقص دور کرنے کے لیے، اس بات پر بحث عام ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کراچی میں سیاسی، نسلی اور فرقہ ورانہ بنیادوں پر ہلاکتوں کے اعداد و شمار اکٹھا کرتی ہے اور حال ہی میں حقائق جاننے کے لیے ایک کمیشن بھی بنایا گیا تھا۔

تنظیم کے وائس چیئرمین امرناتھ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ فی الوقت تو اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت کارروائی کر رہی ہے۔’ حالات اتنے بگڑ چکے ہیں کہ اب حکومت کے بس میں بھی نہیں ہے کہ خاموشی اختیار کرے اگر سرجیکل آپریشن بڑے پیمانے پر نہیں بھی ہوتا ہے تو پچاس ساٹھ فیصد تو ضرور ہوگا۔‘

کراچی میں پرتشدد واقعات کے ساتھ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں جن میں کبھی واضح طور پر تو کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں حالات کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرایا جاتا ہے۔

تجزیہ نگار بابر ایاز کہتے ہیں کہ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ حکومت کی جانب سے اعلانیہ ’سرجیکل آپریشن‘ کا اقدام کتنا سنجیدہ فیصلہ ہے۔

’ اصل بات تو یہ ہے کہ جو جماعتیں آپس میں لڑ رہی ہیں وہ حکومت کا حصہ ہیں اب اگر حکومت بلا تفریق ان لوگوں کو پکڑتی ہے جو یہ کر رہے ہیں اور ان کے پیچھے جو لوگ ہیں تب تو امن امان بحال ہوسکتا ہے۔‘

بابر ایاز کے مطابق اگر سیاسی جماعتوں کو رعایت دی جائے گی جو پکڑا گیا ہے اسے کسی کے کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا تو اس سے معاملہ حل نہیں ہوگا کیونکہ یہ بات عام ہے کہ تینوں جماعتوں کے درمیان یہ لڑائی اس بات پر ہے کہ آنے والے انتخابات میں کون زیادہ نشستیں لیتا ہے۔

سٹیزن پولیس لیژان کمیٹی کے سابق سربراہ جمیل یوسف کہتے ہیں کہ سرجیکل آپریشن کے لیے وسائل ہی نہیں ہیں اور اگر تھے تو اتنے دن یہ کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔

’ کیا پہلے قتل کرنا صحیح تھا یا بھتہ لینے کی اجازت تھی، ان جرائم کےلیے آپریشن کی کیا ضرورت ہے۔ یہ تو قانون کی حکمرانی کی چیزیں ہیں جن کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے اعلانات کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘

جمیل یوسف گورنر راج کے حمایتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں کراچی میں جب ساڑھے چھ سو لوگ مارے گئے تو نواز شریف نے اپنے وزیر اعلیٰ کو ہٹاکرگورنر راج نافذ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ فوجی عدالتیں بھی قائم کی گئیں کیونکہ جب تک سزائیں نہیں دی جائیں گی اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں