کراچی: کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں تشدد کی حالیہ لہر میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں

سندھ حکومت نے کراچی کی صورتحال پر ایک مرتبہ پھر کل جماعتی کانفرنس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ماضی میں بھی دو مرتبہ کراچی کی صورتحال پر کل جماعتی کانفرنس بلانے کے اعلانات کیے گئے تھے مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا۔

ادھر وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کی درخواست پر ایف سی کی مزید نفری کراچی بھیجنے کا حکم جاری کیا ہے۔ کراچی میں پہلے ہی ایف سی کے ایک ہزار اہلکار تعینات ہیں۔

وزیرِاعلٰی سندھ کے معاون وقار مہدی کے مطابق یہ کانفرنس جمعہ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں طلب کی گئی ہے اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو دعوت دینے کے لیے پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزراء تاج حیدر، ایاز سومرو، مظفر شجراہ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو حکومتی اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا اور ان سے تجاویز لی جائیں گی۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق صوبائی حکومت نے بھتہ خوری کی روک تھام کے لیے خصوصی سیل قائم کیے ہیں، جہاں پر اس حوالے سے شکایت وصول کی جائیں گی۔

یہ سیل سٹیزن لیژان کمیٹی اور نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل نے مشترکہ طور پر قائم کیے ہیں، اس حوالے سے اخبارات میں اشتہارات بھی شائع ہوئے ہیں جس میں تاجروں، صنعت کاروں اور کاروباری حضرات سے پولیس کو بھتہ خوری کے مطالبات سے آگاہ کرنے کو کہا گیا ہے۔

دریں اثناء پنجاب کے وزیرِاعلیٰ شہباز شریف نے کراچی میں پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والے کارکنوں کے ورثاء سے تعزیت کی ہے۔

کراچی کے دورے کے دوران انہوں نے کراچی میں انتظامی اقدامات میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس وقت اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر شہباز شریف نے بتایا کہ کراچی کے دورے کے دوران وہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقات کریں گے اور مسئلے کے حل کے لیے مشاورت کی جائے گی۔

اسی بارے میں