چیف جسٹس کا صدر کو خط

افتخار محمد چودھری
Image caption آڈیٹر جنرل ایک آئینی عہدہ ہے اور ایک مرتبہ حلف اُٹھانے کے بعد اسے عہدے سے نہیں ہٹایا جاسکتا: چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے آڈیٹر جنرل سے حلف لینے کو صدر کے تحریری بیان سے مشروط کردیا ہے۔

چیف جسٹس نے اس عہدے پر تعینات ہونے والے افسر اختر بلند رانا کے کوائف اور کردار سے متعلق صدر آصف علی زرداری کو خط لکھا ہے۔یہ خط پچیس اگست کو لکھا گیا تھا جس کی تصدیق وزیر اعطم یوسف رضا گیلانی نے بھی کی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ افسر نے نہ صرف کینیڈین شہریت حاصل کی ہوئی ہے بلکہ اُن پر ایک ماتحت خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام بھی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ خاتون کو ہراساں کرنے کے معاملے پر ایک کمیٹی بنائی گئی تاہم مذکورہ افسر اس کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی بجائے ایک سال کی رخصت پر چلے گئے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اختر بلند رانا سنہ دوہزار نو میں مجاز اتھارٹی سے اجازت لیے بغیر بیرون ممالک چلے گئےاور حکومت کی منظوری کے بغیر کینیڈین شہریت حاصل کی۔ مذکورہ افسر کے پاس تین پاکستانی اور ایک کینیڈین پاسپورٹ ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اختر بلند رانا پر سنگین نوعیت کے الزامات ہیں اور ان الزامات کی تحقیقات کے لیے محکمانہ اور فوجداری کارروائی ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آڈیٹر جنرل ایک آئینی عہدہ ہے اور ایک مرتبہ حلف اُٹھانے کے بعد اسے عہدے سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان تمام الزامات کے باوجود اگر مذکورہ افسر سے حلف لینا ہے تو صدر مملکت اس ضمن میں تحریری طور پر آگاہ کریں۔ یاد رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اڈیٹر جنرل سے حلف لیتے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعظم کی مشاورت کے بعد اختر بلند رانا کو آڈیٹر جنرل پاکستان تعینات کیا تھا۔

مذکورہ شخص کی آڈیٹر جنرل کے عہدے پر تقرری کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے اس کمیٹی کی تمام ذیلی کمیٹیاں توڑ دی اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس جلد طلب کرنے کے بارے میں کہا ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جمعرات کے روز صحافیوں کے اعزاز میں دیےگئے افظار ڈنر میں چیف جسٹس کے خط کا ذکر کیا تھا تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اس خط کا جواب دیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کا عملہ اس خط کی تصدیق تو کرتا ہے لیکن وہ آن دی ریکارڈ بیان دینے پر تیار نہیں ہے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے چیئرمین دیدار حسین شاہ کی تعیناتی کو بھی غیر آئینی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس تعیناتی میں تمام آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔