زکوٰۃ کسے دی جائے؟

Image caption یہ فتویٰ لوگوں کو راہ راست سے ہٹانے کی ایک کوشش ہے، ابرار الحق

پاکستان میں جہاں رمضان کے مہینے میں مستحق افراد کے لیے زکوٰۃ اکٹھی کی جا رہی ہے وہیں ملک میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا کسی اداکار یا گلوکار کے فلاحی ادارے کو زکوٰۃ کی رقم دینا جائز ہے یا نہیں۔

یہ بحث اس فتویٰ کے بعد شروع ہوئی ہے جو ملک کے پانچ بڑے مدارس کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

فتوے میں کہا گیا ہے کہ ایسے ادارے جن کی نگرانی گلوکار اور فلمی اداکار کر رہے ہیں، و زکوٰۃ و فطرہ دینا جائز نہیں کیونکہ یہ لوگ دین سے دور ہیں۔

پاکستان کے معروف گلوکار اور فلاحی ادارے سہارا ٹرسٹ کے سربراہ ابرار الحق نے اپنے ردِعمل میں اس فتویٰ کو لوگوں کو راہِ راست سے ہٹانے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

ابرار الحق کا کہنا ہے کہ فنکار زکوٰۃ اپنے لیے نہیں لیتے بلکہ وہ ایک وسیلہ ہیں ان لوگوں کے لیے جن کو بقول ان کے زکوٰۃ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام نے زکوٰۃ کے لیے معیار طے کیا ہے کہ کن لوگوں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے اس کے لیے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ابرارالحق کے مطابق لوگ اس بات کو بخوبی جانتے ہی کہ ان کی زکوٰۃ کا حقدار کون ہے اور کس کو یہ رقم دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ کسی کی ڈارھی ہے یا نہیں وہ ان لوگوں کو زکوٰۃ دیتے ہیں جن کی ساکھ اچھی ہے اور وہ بھلائی کا کام کررہے ہیں۔

ابرارالحق نے کہا کہ گلوکاری کرنے سے سماجی کاموں پر مثبت اثر پڑتا ہے منفی نہیں اور بقول ان کے زکوٰۃ کی مد میں ان کے ٹرسٹ کو جو رقم ملتی ہے اس میں کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی گلوکار نیک کام کر رہا ہے تو یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ اس کے ادارے کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی۔

بقول ابرارالحق کے یہ کہاوت مشہور ہے کہ ’ نیم حکیم خطرہ جان اور نیم ملا خطرہ ایمان‘۔

پاکستان میں زکوٰۃ کی کٹوتی کے طریقہ کار پر تو بحث ہوتی رہی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ایسا فتوٰی دیا گیا جس میں فنکاروں کو زکوٰۃ دینے منع کیا گیا ہے۔

ماہ رمضان شروع ہوتے ہی ملک بھر میں مختلف دینی تنظیموں اور فلاحی ادارے لوگوں سے زکوٰۃ اکٹھی کرتی ہیں اور اس مقصد کے لیے تنظیموں اور فلاحی اداروں کی طرف سے بھرپور تشہیری مہم چلائی جاتی ہے۔

لوگوں کی ایک بڑی تعداد مختلف شخصیات کی سرپرستی میں چلنے والے فلاحی اداروں اور ہسپتالوں کو زکوٰۃ دیتے ہیں۔

سابق کرکٹر عمران خان کے ادارے شوکت خانم ہسپتال اور گلوکار ابرارالحق کا سہارا ٹرسٹ زکوٰۃ کے لیے رقم اکٹھی کرنے والے اداروں میں خاصا نمایاں ہیں۔

فتویٰ کے اجراء کے بارے میں جامعہ نعیمہ کے مولانا راغب نعیمی کا کہنا ہے کہ بعض افراد نے ان سے یہ رائے مانگی تھی کہ زکوٰۃ کن اداروں کو دی جا سکتی ہے اور ان لوگوں کے سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا اداکاروں اور گلوکاروں کے فلاحی اداروں کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔

ان کے بقول ہسپتالوں، ٹرسٹ اور مختلف اداروں کوخیرات تو دی جا سکتی ہے لیکن زکوٰۃ نہیں۔ مولانا راغب نعیمی کا کہنا ہے کہ صحت کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے یہ فردِ واحد کا کام نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ بے خیالی اور بے خبری میں میں اپنی زکوٰۃ کا صیح استعمال نہیں کررہے۔

اسی بارے میں